The Quran is the source of guidance and attachment to the Quran is the only way to salvation: Islamic thinker Mufti Muhammad Khalil Ahmad Qadri Mujaddid Alf Thani (may Allah have mercy on him) revived the divine religion and ended false ideas. Without Sharia, the path is meaningless: Address by scholars and sheikhs

(اپنا ورنگل)
محبوب نگر:
امیر جامعہ جامعہ نظامیہ مفکرِ اسلام زین الفقہاء حضرت علامہ مفتی الحاج محمد خلیل احمد قادری رکنِ تأسیسی کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ بیت اللہ ، کلام اللہ اور رسول اللہ ﷺ تینوں عظمت و رفعت کے مظہر ہیں ، تاہم قرآن حکیم کو اللہ جل مجدہٗ سے نسبتِ خاص حاصل ہونے کی بناء قرآن حکیم نور ہدایت اور شفاعت کا باعث و مغفرت ہے ۔ قرآن مجید پوری انسانیت کے لئے کتابِ ہدایت ہے اور اس سے حقیقی فیض اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب صاحبِ قرآن خاتم النبیین شفیع المذنبین رحمۃ اللعٰلمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اتباع اہلِ بیت اطہار اور صحابہء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اٹوٹ وابستگی برقرار رکھی جائے ۔
مفکر اسلام ،عرسِ سراپا قدس قطب الاقطاب حضرت امام ربانی شیخ احمد فاروقی سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے موقع پر سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ قادریہ متحدہ ضلع محبوب نگر کے وابستگان کے زیر اہتمام کل رآت شالیمار گارڈن فنکشن ہال ، نیو ٹاؤن محبوب نگر میں منعقدہ ساتویں عظیم الشان فقیدالمثال علمی و روحانی کانفرنس کی سرپرستی کرتے ہوئے خطاب کررہے تھے ۔کانفرنس کا آغاز مولانا حافظ و قاری الحاج محمد ذبیح اللہ نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ و امام و خطیب جامع مسجد غوث الثقلینؓ تاڑبن حیدرآباد کی قراءت کلام پاک سے ہوا ۔
مولانا حافظ محمد اکبرحسین جنیدی مولوی کامل جامعہ نظامیہ اور مولانا حافظ محمد الیاس علی عزیزی قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیہ نعت شریف ومنقبت بہ شان حضرت مجدد الف ثانیؒ پیش کرکے خوب داد تحسین حاصل کی۔مفکر اسلام علامہ مفتی محمد خلیل احمد قادری نے اپنے سلسلہء خطاب کو جاری رکھتے ہوئے قرآن حکیم کی عظمت و برکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کعبۂ معظمہ اللہ تعالیٰ کی طرف مجازی نسبت رکھتا ہے نہ نفع پینچاسکتا ہے اور نا ہی نقصان ، جبکہ قرآن حکیم کو اللہ جل مجدہٗ کی ذات و صفاتِ کمال سے خصوصی نسبت حاصل ہے ۔
قرآن کسی زمان و مکان کا پابند نہیں ، اس کی تلاوت ، اس کو دیکھنا اور اس کی تعلیم حاصل کرنا عبادت اور ذریعۂ ہدایت ہے و راہ نجات و مغفرت ہے ۔ قرآن مجید خود ارشاد فرماتا ہے: ”یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّیَہْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا”، یعنی اللہ تعالیٰ اسی قرآن کے ذریعے بہتوں کو ہدایت عطا فرماتا ہے اور بہتوں کو اپنے معانی و مطالب نکالنے کی بناء پر گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قرآن مجید ”ھُدًی لِّلنَّاسِ” یعنی تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے ۔ جو مسلمان ہدایت طلب کرے قرآن اسے ھدایت کا راستہ دکھاتا ہے اور غیر مسلم بھی اگر حق کی تلاش میں قرآن حکیم سے رجوع کرے تو اس کے لئے بھی قرآن کریم سرچشمۂ ہدایت ہے۔
انہوں نے چاند ، سورج اور نماز کے اوقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ قرآن حکیم نے کائنات کے نظام اور آسمانی اجرام کی گردش کی طرف انسانوں کی توجہ دلائی ہے ۔ اسلامی تقویم میں ایامِ بیض 13، 14 اور 15 تاریخ کو قرار دیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے چھینک کے آداب ، چھینک آنے پر الحمدللہ اور سننے والا یرحمک اللہ کہنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے جمائی کے وقت احتیاط اور مسنون آداب اختیار کرنے کی تلقین کی ایک واقعہ دربار رسالت مآبؐ میں چند یہود و نصاریٰ کے حاضر خدمت ہونے بار بار چھینکنے اور آقائے دوجہاںؐ کے جواب میں یرحمک اللہ سننے کے محتاج تھے چونکہ اس وقت انہیں زبان عربی پر غیر معمولی عبور تھا آپؐ نے یرحمک اللہ نہیں فرمایا بلکہ یھدیکم اللہ فرماکر انہیں ہدایت کی توفیق رفیق کی بارگاہ خداوندی میں دعا کی رحمت الہی کی دعا نہیں فرمائی ۔
مفتی محمد خلیل احمد قادری نے کہا کہ جو شخص مسلسل قرآن حکیم کی تلاوت اور درود شریف میں مشغول رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو بھی اپنے فضل و کرم سے قبول فرماتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ صاحبِ قرآن حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کو نظر انداز کرکے صرف قرآن کو اپنی خواہش کے مطابق سمجھنے کی کوشش انسان کو صحیح فیض اور راہِ نجات سے محروم کرسکتی ہے ۔ انہوں نے عشرۂ مبشرہ اور خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و وفاداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان نفوسِ قدسیہ نے ہمیشہ حضور اکرم ﷺ کی اطاعت و اتباع کو اپنا شعار بنایا تھا ہمیں بھی چاہیئے سیرت نبویؐ پر سختی سے کاربند ہوتے ہوئے زندگی بسر کرنا ناگزیر ہے ۔
نجم المحدثین جلالۃ العلم حضرت علامہ مفتی الحاج ڈاکٹر حافظ سید شاہ صغیر احمد نقشبندی شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ و خطیب و امام جامع مسجد محبوب نگر نے صدارتی اور کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام ربانی شیخ احمد فاروقی سرہندی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ خلیفہء رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اولاد امجاد نے فکر باطل کا خاتمہ کیا ، نجم المحدثین نے دو ٹوک انداز میں کہاکہ شُہرہء آفاق جامعہ نظامیہ نے ہمیں علم و عرفان سے جو روشنی عطا کی ہے اس کے ہوتے ہوئے دوسروں کی طرف دیکھنے کی ہمیں ہرگز ضرورت نہیں ؛ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر اخلاص ، للہیت اور دینی بیداری پیدا کریں ۔
انہوں نے اورنگ زیب عالمگیرؒ کی فتاویٰ عالمگیری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کی علمی تاریخ میں اس عظیم فقہی ذخیرے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے دنیا کی تمام جامعات اور مدارس دینیہ میں جہاں بھی دارالافتاء قائم ہے ان اداروں میں فتاوی عالمگیریؒ درس میں بھی شامل ہے اور اسی فتاوے کی روشنی فتوے بھی جاری کئے جاتے ہیں اور اورنگ زیب عالمگیرؒ و اس کے مرتبین و علماء نے امت کی علمی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا اور آج اسی اورنگ زیبؒ کو ناعاقبت اندیش لوگ مغلظات بکتے ہیں ۔
حضرت علامہ ڈاکٹر حافظ سید شاہ صغیر احمد نقشبندی نے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و روحانی کارناموں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد اس کانفرنس کے ذریعہ سیرت و پاکیزہ زندگیوں کو عوام الناس تک پہنچانا ہے ،تاکہ بزرگوں کی تعظیم و تکریم اور ادب ہمارے لئے عظیم درس بنے ۔ انہوں نے حضرت بِشر حافی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اولیائے کرام کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ سلف صالحین نے علم ، ادب اور اہلِ اللہ کی محبت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنایا تھا اسی وجہہ سے آج بھی دنیا میں انکی تمثیلات پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ہم۔
بھی اولیاء اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے ہوئے راہ نجات و مغفرت حاصل کرسکیں ۔نجم المحدثین نے نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف میں نماز اور عبادات کی عظمت پر خصوصی زور دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو اپنے دیدار کی نعمت سے سرفراز فرمائے گا اور اہلِ ایمان کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں ہوگی ۔حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی جہانگیر کے عہد میں گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپؒ نے آزمائشوں اور تکالیف کے باوجود دینِ اسلام کے احیاء کا فریضہ انجام دیا ۔
انہوں نے کہا کہ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اکبر کے دور کے باطل افکار اور دینِ الٰہی کے فتنے کا علمی و روحانی طور پر مقابلہ کیا اور امت کے عقائد و اعمال کی حفاظت میں تاریخی اور نمایاں کردار بھی ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ آج اہلِ بیت اطہار اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف نازیبا کلمات کا استعمال ہورہا ہے جو انتہائی افسوسناک ہے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ راسخ العقیدہ علماء کرام سے شرف تلمذ حاصل کریں تاکہ موجودہ دور کے ان فتنوں سے محفوظ رہ سکیں ۔ مولانا نے اس امر پر تأسف کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج خصوصاً امہات المؤمنین حضرتہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور صحابۂ کرام کے بارے میں زبان درازی کی جارہی ہے جس سے مسلمانوں کے دل مجروح ہوتے ہیں ۔
انہوں نے قرآن حکیم میں ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی براءت کے نزول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امی حضرتہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حق میں متعدد آیات ربانی ناصل ہوئ ہیں ، نجم المحدثین نے کہاکہ اہلِ بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین ، ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزت و ناموس کا تحفظ ہر مسلمان کی اولین دینی ذمہ داری قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ فکر کی اصلاح ، اخلاص کی بیداری ، مساجد و مدارس و خانقاہوں میں دینی روح کی تجدید اور علماء و مشائخ کے درمیان اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہے ۔
فخرِ نظامیہ شہنشاہِ خطابت حضرت علامہ الحاج سید شاہ عزیز اللہ قادری نقشبندی مجددی افتخاری شیخ العقائد جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن نے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے شریعت کے بغیر طریقت کو بے معنیٰ قرار دیتے ہوئے کہاکہ حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے امت کو فرائض ، واجبات ، سنن ، پاکیزہ عبادات ، صحیح عقائد اور صالح اعمال کی تعلیم دی ہے اور اہلِ بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین ، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین ، تبع تابعین ، ائمۂ مجتہدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور علماءِ حق نے اس پاکیزہ دین کو نسل در نسل عرق رہزی کے ساتھ عوام الناس تک بڑی ہی ذمہ داری کیساتھ پہنچایا ہے ۔
انہوں نے حضرت امام ربانی شیخ احمد فاروقی سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تجدیدی خدمات بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپؒ کی ذات امتِ محمدیہؐ پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کے بغیر طریقت بے معنی ہے ؛ حضور اکرم ﷺ کے ظاہرِ مبارک کی پیروی شریعت اور آپ ﷺ کے باطنِ مبارک کی پیروی طریقت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ذکر و فکر ، شریعت کی پابندی اور باطن کی اصلاح کے ساتھ انسان کو اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھنا چاہیئے دست بکار دل بیار ۔
انہوں نے خیر القرون کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فتنوں کے بڑھتے ہوئے دور میں امت کو قرآن و سنت اور اکابر و اسلاف کی تعلیمات سے مضبوط وابستگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔اتحاد ، اخلاص اور دینی بیداری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔مقررین نے اس موقع پر کہا کہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا بنیادی مقصد قرآن و سنت کی پیروی ، عقائد واعمال کی حفاظت ، شریعت کی پابندی ، تزکیۂ نفس ، اخلاص اور امت کی اصلاح تھا ۔
آج کے دور میں ان تعلیمات کو عام کرنے اور نئی نسل کو اکابر و اسلاف کی علمی و روحانی خدمات سے روشناس کرانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔کانفرنس کے اختتام پر امتِ مسلمہ کے اتحاد ، ملک میں امن و سلامتی ، علماء و مشائخ کے درمیان باہمی اتفاق ، مساجد و مدارس و خانقاہوں کی ترقی اور عالمِ اسلام کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں ۔ مولانا حافظ محمد ریحان نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ نے خیر مقدمی کلمات پیش کئے – مولانا حافظ محمد مصطفیٰ نقشبندی مولوی جامعہ نظامیہ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے – مولانا حافظ الحاج محمد الیاس نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ امام وخطیب مکہ مسجد نے نگرانی کی۔ اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر نے کلمات تشکر پیش کئے ۔
شہہ نشین پر سجادہ نشین قطب دکن حضرت سید بخاری شاہ صاحب قبلہؒ حضرت مولانا الحاج سید شاہ غوث محی الدین نقشبندی مجددی قادری قبلہ سہیل بابا ، حضرت الحاج سید عبدالرزاق شاہ قادری سجادہ نشین قطب محبوب نگر ،حضرت الحاج سید شاہ امین الدین قادری صدر مجلس انتظامی جامع مسجد و سجادہ نشین حضرت سیدشاہ وجہیہ الدین قادری المعروف حافظ صاحبؒ ، حضرت مولانا حافظ محمد منیر الدین انواری چشتی مولوی عالم جامعہ نظامیہ بانی مدرسہء دارالعلوم الحرمین ، حضرت مولانا حافظ محمد عبدالمطلب خضر نقشبندی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، مولانا حافظ محمد امتیاز الرحمٰن طاہری قادری ، مولانا الحاج محمد نثار احمد خلیلی قادری جانشین مفکر اسلام ،
مولانا حافظ خواجہ فیض الدین نقشبندی بانی مدرسہء دارالعلوم عربیہ للبنات ، مولانا حافظ سید یونس قادری برادر سجادہ سگر شریف ، مولانا حافظ مفتی محمد شفاعت علی نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ نارائن پیٹھ ، مولانا حافظ سید بختیار الدین انصار چشتی قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ ، مولانا حافظ سید مجاھد نقشبندی مولوی کامل و نائب امام جامع مسجد ، مولانا حافظ مفتی فاروق بن مخاشن مولوی کامل و صدر مدرس دارالعلوم دینیہ جامع مسجد نارائن پیٹھ ، مولانا حافظ مفتی محمد زبیر نقشبندی مولوی کامل ، مولانا حافظ محمد آصف نقشبندی مولوی کامل ، ممتاز سینیئر صحافی الحاج محمد عبدالرافع ذکی قادری مداری نائب صدر جامع مسجد و ریاستی ٹی یو ڈبلیو جے یو ،
جناب محمد عبدالقدوس نقشبندی جہانگیر میر مجلس دارالعلوم عربیہ کاورم پیٹھ ، مولانا حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نقشبندی چشتی سہروردی مولوی کامل و صدر مؤدب دارالعلوم عربیہ کاورم پیٹھ ، جناب سید واصف پاشاہ قادری نبیرہ حضرت سید مردان علی شاہ قادریؒ ، الحاج محمد عبدالضمیر طاہری قادری متولی شہنشاہ ولایت حضرت سید محمد عبدالقادر بابا مجذوبؒ ، جناب قاضی سید شاہ محمد مجیب بابا قادری چشتی جانشین سجادہ نشین حضرت پیراں شاہ صاحبؒ ، مولانا حافظ محمد برہان محبوب وارث پاشاہ قادری شرفی سجادہ نشین حضرت اتم شرفیؒ ، معتمد مجلس انتظامی جامع مسجد جناب محمد عبدالمجید نقشبندی ، الحاج محمد عبدالجلیل نقشبندی ،
الحاج محمد عبدالنعیم انصاری نقشبندی ، جناب محمد عبدالکلیم انصاری قادری ، الحاج محمد عبدالباری انصاری نقشبندی مجددی قادری چشتی سہروردی جامع السلاسل، مولوی محمد معین مازن انصاری قادری نقشبندی چشتی سہروردی جامع السلاسل و دیگر سینکڑوں حضرات موجود تھے – ناظم جلسہ نے صلوٰۃ و سلام پیش کیا ،پیر طریقت حضرت مولانا الحاج خواجہ بہاء الدین نقشبند مجددی قادری فاروق انجینیئر نے دعا کی – تقریبا گایرہ بجے شب حضرت مولانا حافظ الحاج محمد الیاس نقشبندی امام و خطیب مکہ مسجد نے نماز عشاء باجماعت پڑھائی – سینکڑوں فرزندان توحید کے علاوہ خواتین کی بڑی تعداد بھی پس پردہ موجود تھی – تمام شرکاء کے لئے بکرے کی گوشت کی بریانی کا بہترین انتظام کیا گیا تھا۔
News Source : Moulana Mohsin Pasha

