Celebration of Milad-un-Nabi (peace be upon him), Sunnah of the Prophets and the joy of the believers; Denial of deprivation of Milad-un-Nabi (peace be upon him) and the gift of Satan, delivered by Umad-ul-Hikmat Allama Nematullah Qadri, Asad-ul-Ulama Maulana Mohsin Pasha Naqshbandi and others at the Hans Gul Jamia Mosque.

(اپنا ورنگل)
کاماریڈی :
جامع مسجد ھنس گُل ، منڈل بچکنڈہ ، ضلع کاماریڈی میں دوسرا سالانہ عظیم الشان جلسۂ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وصحبہٖ وسلم نہایت عقیدت و احترام اور روحانی ماحول میں منعقد ہوا ، جس میں شُہرہء آفاق جامعہ نظامیہ کے ممتاز علماء کرام نے قرآنِ حکیم ، احادیثِ نبویہ ﷺ اور سیرتِ طیبہ کی روشنی میں خاتم النبیین شفیع المذنبین سرورِ کائنات حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ، فضائل و شمائل ، اخلاقِ کریمانہ اور تعلیماتِ نبوی ﷺ پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔
جلسہ کا آغاز حضرت مولانا حافظ محمد انوار نظامی فارغ التحصیل جامعہ نظامیہ امام وخطیب جامع مسجد کی قراءت کلام پاک اور نعت شریف سے ہوا شہزادۂ جگر گوشۂ حضور پیرانِ پیرؒ عمدۃ الحکمت حضرت علامہ الحاج سید شاہ نعمت اللہ قادری صدر مؤدب جامعہ نظامیہ بانی مدرسہء عربیہ انوارالعلوم ملحقہ جامعہ نظامیہ ، بھوانی نگر حیدرآباد نے مدلل خطاب کرتے ہوئے قرآنِ حکیم و احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم کی عظمت و رفعت ، مقامِ رسالت اور آپ ﷺ سے سچی محبت کے تقاضوں کو بیان کیا ۔
انہوں نے کہا کہ حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سیرتِ پاک انسانیت کے لئے کامل ترین نمونہ ہے اور مسلمانوں کی حقیقی کامیابی اتباعِ رسول ﷺ میں ہی مضمر ہے ۔بعد ازاں مولانا حافظ محمد عقیل نعمتی قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت ، حضور اکرم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ ، رحمت و شفقت ، عدل و انصاف اور امتِ مسلمہ کے ساتھ آپ ﷺ کی بے مثال محبت و خیرخواہی پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو محض محافل تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی ، معاملات ، اخلاق اور معاشرت میں سنتِ رسول ﷺ کو اختیار کریں ۔جلسۂ میلادالنبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ وجنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ نے کہا کہ میلادالنبی ﷺ دراصل اس عظیم نعمتِ الٰہی کے تذکرے کا نام ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کو اپنے محبوب و آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے نوازا سب سے پہلے آپؐ کے نور کو پیدا فرمایا ۔
حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری سے ظلمتِ کفر و شرک کے بادل چھٹے ، توحید و رسالت کا نور عام ہوا اور انسانیت کو عقیدہ ، عبادت ، اخلاق و کردار ، معاشرت اور عدل و انصاف کا مکمل نظام عطا ہوا ۔انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ احادیثِ صحیحہ سے یہ بات ثابت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت پیر کے دن ہوئی ۔ حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ۔مولانا محسن پاشاہ نقشبندی نے مزید کہا کہ ماہِ ربیع الاول اور سالِ عام الفیل پر اہلِ سیرت کا اتفاق پایا جاتا ہے ، البتہ تاریخِ ولادت کے تعین میں متعدد اقوال ہیں ۔ مشہور قول 12 ربیع المنور کا ہے ، جبکہ متعدد محققین نے 8 یا 9 ربیع الاول کو ترجیح دی ہے ۔
فلکیاتی تحقیق کے مطابق 9 ربیع الاول 571 عیسوی کو پیر کا دن قرار دیا گیا ہے اور اسے 20 اپریل 571ء کے مطابق بیان کیا گیا ہے ۔ لہٰذا علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ 12 ربیع الاول کو مشہور قول کے طور پر اور 9 /ربیع المنور مطابق 20 /اپریل 571ء کو ایک تحقیقی و فلکیاتی ترجیح کے طور پر بیان کیا جانا مناسب ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسی طرح وصالِ اقدس کے بارے میں اہلِ سیرت کا اتفاق ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم نے پیر کے دن ، ماہِ ربیع المنور ، 11 ہجری میں اس ظاہری دنیائے فانی سے پردہ فرمایا ۔
مشہور و جمہور قول کے مطابق وصالِ اقدس 12 ربیع النور 11 ھجری کو ہوا ، جس کی معروف شمسی تطبیق 8 جون 632ء بیان کی جاتی ہے ؛ تاہم تاریخِ وصال کے تعین میں بھی بعض اہلِ علم نے دوسرے اقوال نقل کئے ہیں ۔اس موقع پر مولانا نے واضح کیا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر لمحہ امت کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔ آپ ﷺ نے انسان کو انسانیت ، بندگی ، محبت ، اخوت بھائ چارہ ، عدل و انصاف ، عفو و درگذر اور حُسنِ معاشرت کا درس عظیم دیا ۔ اس لئے میلادالنبی ﷺ کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ مسلمان حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت کے ساتھ آپ ﷺ کی سنتِ مبارکہ کو اپنی زندگی کا عملی دستور بنائیں ۔انہوں نے قرآنِ حکیم کی آیتِ مبارکہ «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی امت کے لئے بہترین نمونہ ہے ۔
قرآنِ کریم نے حضور ﷺ کے اخلاقِ عظیم کو «وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ» کے الفاظ میں بیان فرمایا ، لہٰذا سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو سمجھنا اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل کو سیرتِ طیبہ ، اسلامی اخلاق اور دینی اقدار سے وابستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ والدین اور علماء کرام نئی نسل کو حضور رحمتِ عالم ﷺ کی محبت ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ۰اہلِ بیتِ اطہار سے عقیدت اور اسلامی تعلیمات سے جوڑنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔جلسۂ میلادالنبی ﷺ کے اختتام پر امتِ مسلمہ ، ملک و ملت ، امن و سلامتی اور عالمِ اسلام کی سربلندی کے لئے خصوصی دعا کی گئی ۔ محبتِ رسول ﷺ ایمان کی بنیاد ہے۔عمدۃ الحکمت حضرت علامہ الحاج سید شاہ نعمت اللہ قادری، بانی مدرسہ عربیہ انوارالعلوم ملحقہ جامعہ نظامیہ، نے اپنا سلسلہء خطاب جاری رکھتے مزید کہاکہ اپنی جان و مال ، مانباپ ، رشتہ داروں اور ساری کائنات سے بڑھ کر خاتم النبیین شفیع المذنبین رحمۃ اللعٰلمین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و صحبہ وسلم سے محبت نہ ہو تو وہ ہرگز ہرگز مومن نہیں ہوسکتا ، محبتِ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے موضوع پر ایک مدلل اور ایمان افروز خطاب کرتے ہوئے عمدۃ الحکمت نے مزید کہا کہ حضور نبیء کریم ﷺ کی محبت ایمان کا لازمی تقاضا اور مسلمانوں کی زندگی کا بنیادی سرمایہ ہے ۔
مولانا نے حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے گھر کی دعوت کا واقعہ تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہاکہ ایک بکری کا بچہ سرکار دوعالمؐ کی محبت کے لئے پکایا گیا پھر آپؐ سے استدعاء کی گئی کھانا تیار ہے آپؐ نے فرمایا تمہارے دونوں بچوں کو بلا لاؤ تو ہم کھانا کھائیں ، حضرت سیدنا جابرؓ کے دونوں شہزادوں نے بکری کے ذبح کا واقعہ دیکھ کر بڑے بھائ نے چھوٹے بھائی کو لٹا کر ذبح کردیئے جب بڑے بھائ کو ماں نے صدا دی تو وہ مارے خوف کے چھت پر دوڑ لگائ پاؤں پھسلا وہ بھی زمین پر گر کر شہید ہوگئے ماں کو علم ہوا تو دونوں کو سفید چادر میں لپیٹ کر انتہائ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپؐ کی غیر معمولی محبت میں پکوان تمام کرتی ہیں حضرت سیدنا جابرؓ کے دونوں شہزادے شہید لیٹے ہوئے تھے آپؓ نے اندر آکر اپنی بیوی سے فرمایا کہ سرکرر دوعالمؐ نے دونوں بچوں کو لانے کے لئے بھیجا ہے تاکہ کھانا تناول فرماسکیں ،فوت شدہ بچوں کو حضرت جابرؓ نے آقائے دوجہاںؐ کے سامنے اپنے شہید بچوں کو پیش کیا آپؐ نے ان دونوں بچوں کو بارگاہ خداوندی میں دوبارہ زندہ ہونے کی دعا فرمائی چنانچہ بچے زندہ ہونے کے بعد ہی آپؐ نے کھانا تناول فرمایا –
عمدۃ الحکمت نے مزید کہاکہ یہ چھوٹا سا گاؤں ہنس گُل میں جید علماء کرام مشائخ عظام کی آماجگاہ رہی ہے چنانچہ مفکر اسلام زین الفقہاء حضرت علامہ الحاج مفتی محمد خلیل احمد امیر جامعہ ، جامعہ نظامیہ و رکن تأسیسی کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وطنی ہیں اور آپ کے والد ماجد حضرت علامہ حافظ شیخ احمد صاحبؒ بھی یہیں کے ساکن ہے ، انہوں نے ھنس گُل کے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ ہنس گُل ضلع کاما ریڈی کے بچوں کو شُہرہء آفاق جامعہ نظامیہ میں حفظ قرآن حکیم اور عالم دین بننے کے لئے کامیاب مساعئی جمیلہ کیجئے اور اس سلسلہ میں یہاں کے سرپنچ سے تفصیلی کہہ چکاہوں آپ لوگ ان سے بھی رجوع ہوجائیں -انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں محبتِ رسول ﷺ کی اہمیت ، اس کے تقاضوں اور عملی مظاہر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سچی محبت محض زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اتباعِ سنت ، تعظیم و ادب ، اطاعتِ رسول ﷺ اور آپؐ کی تعلیمات کو زندگی میں نافذ کرنے کا نام ہے ۔
انہوں نے حاضرین پر زور دیا کہ وہ اپنی اولاد کو تین باتوں کا ادب سکھلائیں حضور اکرمؐ سے محبت دوسرا اہل بیت اطہار سے محبت اور تیسرا قرآن حکیم کی تعلیم دلوائیں ،مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ سیرتِ طیبہؐ کا مطالعہ کریں ، اپنی اولاد کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کو کوٹ کوٹ کر پیدا کریں اور آپؐ کی سنتوں کو اپنی زندگی کا عملی شِعار بنائیں ۔علامہ سید شاہ نعمت اللہ قادری نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی عزت ، اتحاد اور روحانی سربلندی اسی میں ہے کہ وہ قرآن و سنت سے مضبوط وابستگی اختیار کریں اور محبتِ رسول ﷺ کو اپنے ایمان و کردار کا محور بنائے ۔ حضرت علامہ الحاج مفتی محمد عتیق احمد قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ بودھن نے صلوۃ و سلام کے بعد امتِ مسلمہ کی سلامتی ، اتحاد اور ملک و ملت کی ترقی کے لئے خصوصی دعا کی ۔
اس موقعہ پر شیخ حاجی پٹیل صدر مجلس انتظامی جامع مسجد ، جناب محمد نعیم پٹیل سرپنچ ، جناب محمد عبدالرشید ، جناب حاجی محمد امیر الدین نائب صدر مجلس انتظامی ، جناب حاجی محمود غوری ، جناب محمد رئیس پیراں نائب صدر جامع مسجد اور جناب سلیم پٹیل و دیگر سینکڑوں فرزندان توحید موجود تھے –
News Source : M.F. BAig Riaz

