Mukthal Junior College will soon shift to a new and safer location: Minister Vakati Srihari

(اپنا ورنگل)
مکتھل:
مکتھل جونیئر کالج کی خستہ حال عمارت کو جلد منہدم کرکے طلبہ و طالبات کے لیے ایک موزوں اور محفوظ مقام پر کالج کو منتقل کیا جائے گا۔ طلبہ کی حفاظت اور معیاری تعلیم کو اولین ترجیح دیتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ریاستی وزیر ڈاکٹر وکیٹی سری ہری کی ہدایات پر منگل کے روز مقامی کانگریس قائدین نے کالج کے عملے کے ہمراہ خستہ حال عمارت کا تفصیلی معائنہ کیا۔اس موقع پر مارکیٹ کمیٹی کے وائس چیئرمین بی۔
گنیش کمار، کانگریس ٹاؤن صدر الکوری روی کمار، کوآپشن ممبر وَلَّم پلی لکشمن اور مارکیٹ ڈائریکٹر شالم نے کہا کہ وزیر وکیٹی سری ہری کی ہدایات کے مطابق جلد ہی جونیئر کالج کے لیے ایک موزوں عمارت کا انتخاب کرکے وہاں کلاسز منتقل کی جائیں گی، تاکہ طلبہ کو کسی بھی قسم کی دشواری یا خطرے کے بغیر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔قائدین نے بتایا کہ موجودہ جونیئر کالج کی خستہ حال عمارت کو مکمل طور پر منہدم کرنے کے احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
مستقبل میں تمام ضروری سہولیات سے آراستہ، جدید طرز کی نئی جونیئر کالج عمارت تعمیر کرکے اسے طلبہ کے لیے دستیاب کرانے کا وزیر وکیٹی سری ہری نے یقین دلایا ہے۔قائدین نے کہا کہ وزیر وکیٹی سری ہری نے شروع ہی سے تعلیم کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں مکتھل میں ڈگری کالج کی کلاسز کا باقاعدہ آغاز ممکن ہوا اور طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے علاقوں کا رخ کرنے کی ضرورت میں کمی آئی۔
اسی جذبے کے تحت جونیئر کالج کے لیے بھی مستقل اور جدید عمارت کی تعمیر کی سمت میں اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ مکتھل کے طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت اور وزیر کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خستہ حال عمارت کے مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے طلبہ کی سلامتی کو مقدم رکھنا قابلِ تحسین اقدام ہے۔ نئی عمارت کی تعمیر سے نہ صرف طلبہ کو محفوظ ماحول میسر آئے گا بلکہ مکتھل کے تعلیمی نظام کو بھی مزید استحکام حاصل ہوگا۔
مقامی قائدین نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں جونیئر کالج کی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے تمام ضروری منظوریوں کا عمل مکمل کرکے کام تیزی سے شروع کیا جائے گا اور طلبہ کو جدید سہولیات سے آراستہ تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے گا۔اس موقع پر کانگریس قائدین کے علاوہ جونیئر کالج کا تدریسی و غیر تدریسی عملہ بھی موجود تھا۔
News Source : Mohd. Mujeeb

