سنتوش نگر میں جشنِ میلاد مصطفیٰؐ و عرسِ شریف کی روح پرور محفل کا اختتام- علماء کرام کا اولیاء اللہ کے علمی و روحانی فیضان اور کرامات پر قرآن و احادیث کی روشنی میں بصیرت افروز خطاب

The spiritual gathering of the Milad-e-Mustafa (PBUH) and Urs-e-Sharif concluded in Santosh Nagar – Insightful speeches by scholars on the scientific and spiritual benefits and miracles of the saints of Allah in the light of the Quran and Hadiths –

(اپنا ورنگل)

حیدرآباد : 

سنتوش نگر میں منعقدہ بابرکت جشنِ میلاد النبی ﷺ و عرسِ شریف حضرت سید شاہ محمد عزہز الدین قادری چشتی وحدتی شمسی خالدیؒ کی 44 ویں سالانہ روح پرور محفل میں ممتاز علماء کرام و مشائخ عظام نے سیرتِ طیبہ ، فضائلِ مصطفیٰ ﷺ، اولیائے کرام کی علمی و روحانی خدمات، ان کے فیضان اور کرامات کے موضوع پر قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں تفصیلی و مدلل خطاب کیا سجادہ نشین و متولی حضرت سید شاہ محمد ظہیر الدین قادری چشتی نقشبندی سہروردی جامع السلاسل و نبیرہ حضرت وجودی پیاؒ اور نگرانی اولاد امجاد حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ حضرت مولانا سید شاہ رحمت محمد محمد الحسینی قبلہ المعروف بہ رحمت بابا بندہ نوازی چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل نے فرمائی ۔

اس موقع پر علامہ مفتی محمد آصف رضا اشرفی قادری بہار ، بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ وجنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ ضلع محبوب نگر اور مقامی ممتاز عالمِ دین حضرت مولانا الحاج صوفی محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری مداری چشتی سہروردی بانی و صدر آل انڈیا ایس ایس اُو نے اپنے اپنے خطابات میں اہم نکات پیش کیئے ۔

علامہ مفتی محمد آصف رضا اشرفی بہار کے سات اہم نکات
1۔ میلادِ مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت
علامہ مفتی محمد آصف رضا قادری بہار نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری پوری انسانیت کے لئے اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہے ۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
﴿ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴾
یعنی ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ۔ اس لئے ذکرِ مصطفیٰ ﷺ دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عظیم احسان کا تذکرہ ہے ۔

2۔ محبتِ رسول ﷺ ایمان کی اساس
انہوں نے کہا کہ مسلمان کی زندگی کا اصل سرمایہ محبتِ رسول ﷺ ہے ۔ حضور نبیء کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ اسے اپنے ، والدین ، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں ۔ اس لئے محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کرنا ضروری ہے ۔

3۔ اولیاء اللہ ، انبیاء کے وارثانِ علم
علامہ آصف رضا قادری نے یہ بھی کہا کہ اولیاء کرام نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنے اور مخلوقِ خدا کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے میں صرف کی ۔ ان کی خانقاہیں صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ علم ، اصلاح ، تربیت ، خدمتِ خلق اور روحانی فیضان کے مراکز رہی ہیں ۔

4۔ کرامت عقیدۂ اولیاء اللہ کا حصہ
انہوں نے واضح کیا کہ اولیاء اللہ سے ظاہر ہونے والی کرامات اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہوتی ہیں ۔ ولی اپنی ذات سے مستقل طور پر کوئی تصرف نہیں کرتا ، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کے ہاتھوں غیر معمولی امور ظاہر فرماتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت آصف بن برخیا کے واقعات اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ۔

5۔ ولایت کا معیار شریعت کی پابندی
انہوں نے کہا کہ ولایت کا دعویٰ صرف غیر معمولی واقعات سے ثابت نہیں ہوتا؛ حقیقی ولی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ، رسول اللہ ﷺ کا سچا غلام اور شریعت مطہرہ کا پابند ہو ۔ قرآنِ کریم نے اولیاء اللہ کی پہچان بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔

6۔ بزرگانِ دین کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں نئی نسل کو اولیائے کرام کی سیرت ، ان کی علمی خدمات ، تقویٰ ، اخلاص اور خدمتِ انسانیت سے روشناس کرانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، تاکہ نوجوان مادیت کے بجائے ایمان، اخلاق اور روحانیت سے وابستہ ہوں ۔

7۔ عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ اتباعِ سنت
اختتام پر علامہ مفتی محمد آصف رضا قادری بہار نے زور دیا کہ جشنِ میلاد اور اولیائے کرام کی محافل کا اصل مقصد صرف اجتماع نہیں بلکہ حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت ، سنتوں کی پیروی ، شریعت کی پابندی اور اصلاحِ معاشرہ ہونا چاہیئے ۔

اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی کے خطاب کے اہم نکات
بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ ضلع محبوب نگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ :

1۔ اولیائے کرام قرآن و سنت کے علمبردار
انہوں نے کہا کہ اولیاء اللہ کی پوری زندگی قرآن و سنت کی عملی تفسیر ہوتی ہے ۔ انہوں نے اپنے کردار ، اخلاق کریمہ ، عبادات و ریاضات اور خدمت کے ذریعے لاکھوں انسانوں کو دینِ اسلام سے وابستہ کیا ۔ اولیاء اللہ کا تذکرہ دراصل دین کے ان روشن کرداروں کا تذکرہ ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں رضائے الٰہی کے لئے وقف کردیں ۔

2۔ ولایت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے
مولانا محمد محسن پاشاہ نے کہا کہ ولایت کوئی خاندانی منصب یا دنیاوی عہدہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے ۔ حدیثِ قدسی میں اولیاء اللہ کے بارے میں سخت وعید آئی ہے کہ جو اللہ کے کسی ولی سے دشمنی رکھے ، اللہ تعالیٰ اس کے خلاف اعلانِ جنگ فرماتا ہے ۔ اس حدیث سے اولیائے کرام کی عظمت واضح ہوتی ہے ۔

3۔ کرامت کا حقیقی فاعل اللہ تعالیٰ ہے
انہوں نے کہا کہ اولیاء اللہ سے ظاہر ہونے والی کرامات کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ ولی کی کرامت در اصل اللہ جل مجدہ کی قدرت کا اظہار ہوتی ہے ۔ اس لئے اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ کرامت حق ہے ، مگر کرامت کو شریعت سے بالا تر سمجھنا درست نہیں ۔

4۔ حضرت غوثِ پاکؓ اور دیگر اولیاء کی علمی خدمات
انہوں نے کہا کہ سیدالاولیاء حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم دستگیر رضی اللہ عنہ ، عطائے رسول خواجہء خواجگان حضرت سیدنا خواجہ معین الدین حسن چشتی المعروف خواجہ غریب النواز رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سیدنا خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سیدنا خواجہ شہاب الدین احمد سہروردیؓ اور دیگر بزرگانِ دین نے روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ علمِ دین ، اخلاق ، اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ خلق کا عظیم کام انجام دیا ۔ ان کی خانقاہوں نے برصغیر کی دینی و تہذیبی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ۔

5۔ خانقاہیں اصلاحِ انسانیت کے اہم مراکز
انہوں نے کہا کہ حقیقی خانقاہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ، رسول اللہ ﷺ کی محبت عطا کرتی اور مخلوقِ خدا کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے ۔ اولیاء کرام نے ذات ، رنگ ، نسل اور طبقے کی تفریق سے بالاتر ہوکر انسانیت کی عظیم خدمت کی ۔

6۔ آج کے دور میں روحانی تربیت کی ضرورت
مولانا محمد محسن پاشاہ نے کہا کہ آج انسان مادی ترقی کے باوجود قلبی سکون سے محروم ہے ۔ اولیاء کرام کی تعلیمات انسان کو اخلاص ، صبر ، شکر ، توکل ، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کا راستہ دکھاتی ہیں ۔ نئی نسل کو ان تعلیمات سے جوڑنا علماء کرام اور مشائخ عظام کی اہم ذمہ داری ہے ۔

7۔ میلادالنبیؐ و عرس شریف کا پیغام اتحاد و اصلاح معاشرہ
انہوں نے کہا کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ اور عرسِ اولیاء اللہ کی محافل کا حقیقی پیغام محبت ، اخوت ، اتحاد ، اصلاحِ نفس اور خدمتِ خلق ہے ۔ ہمیں ان محافل سے اپنے کردار کی اصلاح کا عہد لے کر اٹھنا چاہیئے تاکہ معاشرے میں امن و امان ، محبت اور دینی شعور فروغ پائے ۔

حضرت مولانا الحاج صوفی محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری مداری چشتی سہروردی کے خطاب کے اہم نکات
مقامی ممتاز عالمِ دین حضرت مولانا الحاج صوفی محمد عبدالرزاق نقشبندی مجددی قادری مداری چشتی سہروردی، بانی و صدر آل انڈیا ایس ایس اُو نے اپنے خطاب میں کہاکہ :

1۔ اولیاء اللہ کی محبت قرآن و سنت سے ثابت ہے
مولانا قاضی عبدالرزاق نقشبندی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں سے محبت ایمان کی روحانی کیفیت کو مضبوط کرتی ہے ۔ اولیائے کرام سے عقیدت کا مطلب ان کی عبادت نہیں بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے نیک بندے سمجھتے ہوئے ان کی دینی و روحانی تعلیمات سے استفادہ کرنا ہوتا ہے ۔

2۔ بزرگانِ دین نے دلوں کو جوڑا
انہوں نے کہا کہ برصغیر میں اولیائے کرام نے تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق ، محبت ، کردار اور حسنِ سلوک سے دلوں کو فتح کیا ۔ ان کی زندگیوں کا سب سے بڑا معجزہ یہی تھا کہ انہوں نے نفرت کے ماحول میں محبت اور ظلم کے ماحول میں عدل کا پیغام عام کیا ۔

3۔ ذکرِ الٰہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے
انہوں نے قرآنِ کریم کی آیت ﴿ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ﴾ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دلوں کا حقیقی سکون اللہ کے ذکر میں ہے ۔ اولیائے کرام نے ذکر ، فکر ، عبادت اور تقویٰ کے ذریعے اپنے دلوں کو زندہ رکھا اور یہی پیغام امت کو دیا ۔

4۔ کرامات سے بڑھ کر استقامت
مولانا نے کہا کہ ولی اللہ کی سب سے بڑی کرامت اس کی استقامت علی الشریعت ہے ۔ اگر کسی شخص سے غیر معمولی واقعہ ظاہر ہو مگر وہ شریعت و سنت کا پابند نہ ہو تو اس واقعہ کو ولایت کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا ۔ بزرگانِ دین نے ہمیشہ شریعت کو اصل اور کرامت کو تابع قرار دیا ۔

5۔ اولیاء کی مجالس میں ادب بنیادی شرط ہے
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا ذکر کرتے ہوئے ادب و احترام ملحوظ رکھنا چاہیئے ۔ بزرگوں کی سیرت کا مطالعہ محض کرامات سننے کے لئے نہیں بلکہ ان کے تقویٰ ، عبادت ، علم ، عاجزی اور حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی میں اختیار کرنے کے لئے ہونا چاہیئے ۔

6۔ نوجوان نسل کو روحانیت سے جوڑیں
مولانا عبدالرزاق نقشبندی نے کہا کہ نوجوان نسل کو اولیائے کرام کی حقیقی تعلیمات سے واقف کرایا جائے ۔ انہیں بتایا جائے کہ بزرگانِ دین نے علم حاصل کیا ، شریعت پر عمل کیا ، والدین کا ادب کیا ، مخلوق کی خوب خوب خدمت کی اور اپنے کردار سے اسلام کی دعوت دی ۔

7۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی تمام فیضان کا سرچشمہ
انہوں نے کہا کہ تمام اولیائے کرام کا فیضان دراصل سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی غلامی اور اتباع سے وابستہ ہے ۔ جو بزرگانِ دین امت کی رہنمائی کرتے رہے ، ان کی تعلیمات کا مرکز قرآن حکیم ، سنت نبوی اور محبتِ رسول ﷺ ہی تھا ۔ اس لئے امت کو بھی اسی راستے کو اختیار کرنا چاہئیے ۔

علماء کرام نے اس موقع پر اس امر پر زور دیا کہ جشنِ میلاد النبی ﷺ اور اعراسِ اولیائے کرام محض رسمی اجتماعات نہیں بلکہ ایمان کی تازگی ، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستگی ، اصلاحِ نفس ، محبتِ اولیاء اللہ ، خدمتِ خلق اور اتحادِ امت کے عظیم مراکز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہ ﷺ کی تعلیمات کو زندگی کا حصہ بناکر ہی معاشرے میں حقیقی امن ، روحانی سکون ، اخلاقی پاکیزگی اور دینی بیداری پیدا کی جاسکتی ہے ۔

شہہ نشین پر اولاد حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ حضرت مولانا سید شاہ فرید محمد محمدالحسینی المعروف بہ مسعود بابا بندہ نوازی چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل ، حضرت عبداللہ بن سالم بایمین چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل ، حضرت سید شاہ کلیم اللہ حسینی سجادہ نشین بارگاہ قتالیہؒ کولم پلی ضلع نارائن پیٹ حضرت سید محمد پاشاہ قادری چشتی سجادہ نشین حضرت سید محمد عبدالقادر شہیدؒ ایل بی نگر و دیگر حضرات موجود تھے-

News Source : Mohsin Pasha