The man who served the hungry throughout his life….was taken away by fire

(اپنا ورنگل)
ہنمکنڈہ :
ہنمکنڈہ کے عدالت جنکشن پر واقع لنگالہ کیداری ہوٹل میں پیش آئے بھیانک آتشزدگی کے واقعہ نے ورنگل شہر کو غم میں مبتلا کردیا۔ ہوٹل کے مالک لنگالہ کیداری اور ان کی اہلیہ اس حادثہ میں شدید زخمی ہوگئے۔ کیداری کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ راستے میں ہی ان کی موت ہوگئی، جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔ ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اس حادثہ سے ورنگل شہر کے عوام کے لیے صرف ایک ہوٹل مالک کی موت کا غم نہیں بلکہ کئی برسوں سے بھوکوں کو کھانا کھلانے والے ایک انسان دوست اور مددگار ہاتھ سے محروم ہونے کا دکھ بھی ہے۔
تلنگانہ تحریک کے عروج کے دنوں میں عدالت سنٹر میں واقع امرا شہیدان کی یادگار کے پاس آنے والے طلبہ اور تحریک کاروں کو لنگالہ کیداری اور ان کی اہلیہ اپنے ہوٹل کے ذریعہ مفت چائے، ناشتہ اور کھانا فراہم کیا کرتے تھے۔ تحریک کاروں کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھتے ہوئے انہیں کھانا فراہم کرنا وہ خدمت سمجھتے تھے۔ منافع سے زیادہ انسانیت کو اہمیت دیتے ہوئے انہوں نے ہوٹل چلایا۔ تحریک کے دوران کیداری کی خدمات نے انہیں ایک الگ شناخت دلائی۔ بغیر کسی صلے کی امید کے تحریک کاروں کو کھانا فراہم کرنے والے کیداری نے بعد میں بھی اسی خدمت کے جذبے کو جاری رکھا۔
میاں بیوی دونوں خود ہوٹل میں کام کرتے ہوئے اپنی زندگی سماجی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے تھے۔کیداری نے لوگوں میں کھانا ضائع نہ کرنے کا شعور پیدا کرنے کے لیے بھی خصوصی طور پر کام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھوکوں کو کھانا فراہم کرنا جتنا ضروری ہے، دستیاب کھانے کو ضائع ہونے سے بچانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ انہوں نے ’فوڈ ویسٹ نہ کریں‘ کے نعرے کو ورنگل کے عوام میں مضبوطی سے عام کیا۔ انہوں نے اپنے ہوٹل کو محض کاروباری مرکز کے بجائے دوسروں کے کام آنے والی جگہ کے طور پر قائم کیا۔
بھوک کے ساتھ آنے والوں کو کھانا کھلانے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے باعث کیداری میاں بیوی نے عوام میں اپنی الگ پہچان بنائی۔ اسی لیے انہیں جاننے والے لوگ کیداری کو صرف ہوٹل مالک نہیں بلکہ ایک خدمت گزار کے طور پر یاد کرتے ہیں۔کیداری کی سماجی خدمات کو قومی سطح پر بھی شناخت ملی۔ تقریباً دو سال قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے ’من کی بات‘ پروگرام کے دوران کیداری سے بات کی تھی۔ ایک عام ہوٹل چلاتے ہوئے سماجی خدمت کو ترجیح دینے والے کیداری کو وزیر اعظم سے بات کرنے کا موقع ملنا ان کی خدمات کے سفر کی نمایاں مثال ہے۔
ان کے قریب رہنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس شناخت کو ذاتی تشہیر کے بجائے مزید لوگوں کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔ کیداری میاں بیوی نے کمائی سے زیادہ اطمینان کو اہمیت دیتے ہوئے اپنی زندگی کو سماج سے جوڑ دیا تھا۔ ہوٹل میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے کیداری میاں بیوی شدید زخمی ہوگئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ شدید زخمی دونوں کو علاج کے لیے ورنگل ایم جی ایم اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اسپتال لے جاتے ہوئے کیداری کی موت ہوگئی۔
ان کی اہلیہ شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔کئی لوگوں کی بھوک مٹانے والے ہاتھوں کا آخرکار آگ کے حادثہ میں رک جانا کیداری کی خدمات کو یاد کرنے والوں کو غمزدہ کررہا ہے۔ تحریک کاروں کو مفت کھانا فراہم کرنے کے دن، کھانا ضائع نہ کرنے کے لیے چلائی گئی مہم اور ضرورت مندوں کی مدد کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کئی افراد جذباتی ہوگئے۔ کیداری کی موت پر ورنگل کے عوام نے گہرے صدمے کا اظہار کیا۔
انہوں نے اپنی زندگی صرف کمائی کے لیے نہیں بلکہ سماج کے کام آنے کے لیے وقف کردی تھی۔ کیداری جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی خدمات ہنمکنڈہ ،ورنگل،قاضی پیٹ کے عوام کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
News Source : M.F. Baig Riaz

