ماں بننے کی خوشی غم میں بدل گئی،ورنگل کے سمرکشا اسپتال میں زچہ کی موت،اہل خانہ کا شدید احتجاج۔

The joy of becoming a mother turned into grief, the mother died at Samraksha Hospital in Warangal, the family protested strongly

(اپنا ورنگل)

ورنگل :

ورنگل کے سمرکشا اسپتال میں ایک زچہ کی موت کے بعد اس کے رشتہ داروں نے اسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا۔ مرحومہ کی شناخت اسرا بتول کے طور پر ہوئی ہے۔متوفیہ کے شوہر رضوان الدین اور دیگر اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث موت ہوئی۔اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر سندھیا رانی کی مبینہ لاپرواہی کے باعث علاج کے دوران مریضہ کو بے ہوشی کی دوا کی ڈبل خوراک دی گئی، جس سے متوفیہ کی حالت مزید بگڑ گئی اور بالآخر موت ہوگئی۔

متوفیہ کے خاندان کے مطابق اسرا بتول گزشتہ تقریباً پانچ دن سے اسپتال میں زیر علاج تھی، لیکن اس کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ اہل خانہ نے بتایا کہ علاج پر اب تک تقریباً 2.50 لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث ایک قیمتی جان ضائع ہوگئی۔لاش دیکھنے کے بعد رشتہ داروں نے اسپتال کے باہر احتجاج شروع کردیا۔ بعض افراد نے اسپتال پر حملے کی کوشش بھی کی، جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں مظاہرین نے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج کیا، جس کے باعث ٹریفک میں خلل پڑا۔متوفیہ کے اہل خانہ نے واضح کیا کہ جب تک اسپتال کو سیل نہیں کیا جاتا، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علاج کے نام پر اسپتالوں میں لوگوں کی جانیں لی جارہی ہیں اور واقعہ کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

تاہم ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے متعلق الزامات پر اسپتال انتظامیہ یا متعلقہ ڈاکٹروں کی جانب سے سرکاری وضاحت سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

News Source : M.F. Baig Riaz