If a statue is removed, statues of Peddi Sudarshan Reddy will be installed in every mandal, every village: Nannapuneni Narender
(اپنا ورنگل)
ورنگل :
ورنگل مشرقی اسمبلی حلقہ کے سابق رکن اسمبلی نَنّاپونینی نریندر نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے آنجہانی سابق رکن اسمبلی اور تحریک کے رہنما پیدی سدرشن ریڈی کے مجسمے کو ہٹائے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتقال کرچکے شخص کے خلاف انتقامی کارروائی کرنا مناسب نہیں ہے اور کانگریس حکومت کے رویے پر سخت اعتراض کیا۔اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نَنّاپونینی نریندر نے کہا کہ مقامی رکن اسمبلی دونتی مادھاور یڈی انتقامی سیاست کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک مجسمہ ہٹایا گیا تو حلقہ کے ہر منڈل اور ہر گاؤں میں پیدی سدرشن ریڈی کے مجسمے نصب کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام بھی کئی مقامات پر پیدی سدرشن ریڈی کے مجسمے نصب کرنے کے لئے رضاکارانہ طور پر آگے آ رہے ہیں اور اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ مقامی رکن اسمبلی اور عہدیدار کیا کارروائی کرتے ہیں۔نریندر نے سوال کیا کہ تلنگانہ کے لئے جدوجہد کرنے والے تحریک کے رہنما پیدی سدرشن ریڈی کا مجسمہ کیوں ہٹایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ بالاسبرامنیم کا مجسمہ نصب کرنے کی اجازت دی گئی، جبکہ تلنگانہ کے لئے جدوجہد کرنے والے پیدی سدرشن ریڈی کے مجسمے کو ہٹا دیا گیا، جو اس معاملے کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ایسے فیصلوں کو واپس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پیدی سدرشن ریڈی کی آخری رسومات کے بعد ان کی راکھ بھدراچلم میں نذر کئے جانے سے قبل ہی ان کے خاندان کے ساتھ امتیازی سلوک کیوں کیا گیا؟ حکومت پیدی خاندان کے ساتھ تعصب پر مبنی رویہ اختیار کر رہی ہے۔نریندر نے کہا کہ پیدی سدرشن ریڈی کے نظریات کو آگے بڑھایا جائے گا اور حلقہ کے ہر گاؤں میں ان کے مجسمے نصب کرنے کے لئے عوام رضاکارانہ طور پر آگے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نرسَم پیٹ کے عوام پہلے ہی سڑکوں پر آچکے ہیں اور آنے والے انتخابات میں مقامی رکن اسمبلی دونتی مادھاور یڈی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے سیاسی مستقبل کا اختتام ہوگا۔ حکومت اور انتظامیہ کو عوام کے غصے کو سمجھنا چاہئے اور پیدی سدرشن ریڈی کے مجسمے کو ہٹانے کے معاملے پر دوبارہ غور کرنا چاہئے۔نَنّاپونینی نریندر نے کہا کہ پاکھال کے لئے گوداوری کا پانی لانے والے رہنما پیدی سدرشن ریڈی کے انتقال کے بعد ان کا مجسمہ گرا کر ان کے خاندان کو آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ ورنگل ضلع میں اپنی 30 سالہ سیاسی زندگی میں انہوں نے کسی بھی سیاسی رہنما کو کسی فوت شدہ شخص کے خلاف اس طرح کی انتقامی کارروائی کرتے نہیں دیکھا۔انہوں نے بتایا کہ پیدی سدرشن ریڈی کا مجسمہ بی آر ایس پارٹی کے قائدین کی قیادت میں نصب کیا گیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجسمہ نصب کئے جانے کے وقت پولیس کانسٹیبل گشت کرتے ہوئے وہاں پہنچا، اس سے قبل کسی نے مجسمے کی تنصیب کی مخالفت نہیں کی تھی۔ نریندر نے الزام لگایا کہ نرسَم پیٹ اسمبلی حلقہ میں جب کوئی شخص مقدمہ درج کرانے کے لئے آگے نہیں آیا تو پولیس کانسٹیبل کے ذریعہ مقدمہ درج کرانے کی نوبت آگئی، جس سے مقامی رکن اسمبلی کے رویے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نرسَم پیٹ ٹاؤن میں کوئی بھی شخص مجسمے کی تنصیب کے خلاف نہیں ہے۔ ان کے مطابق مقامی رکن اسمبلی نے اپنے ذاتی ایجنڈے کے تحت اقتدار کا استعمال کرتے ہوئے پولیس اور عہدیداروں کو سامنے رکھ کر صرف مجسمہ ہٹایا ہے، لیکن عوام کے دلوں میں پیدی سدرشن ریڈی کی جانب سے کئے گئے اچھے کام اور ان کے نظریات موجود ہیں، جنہیں آنے والے دنوں میں عوام ہی آگے لے کر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام رکن اسمبلی کو سبق سکھانے کے لئے تیار ہیں۔اس پروگرام میں ورنگل مشرقی اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس پارٹی کے سابق کارپوریٹرز اور اہم قائدین نے شرکت کی۔
News Source : M.F. Baig Riaz

