بی آر ایس کے الزامات بے بنیاد، نائنی راجندر ریڈی اقلیتوں کی ترقی کے لیے سرگرم: کانگریس اقلیتی قائدین

BRS allegations are baseless, Naini Rajender Reddy is active for the development of minorities: Congress minority leaders

(اپنا ورنگل)

ہنمکنڈہ :

کانگریس پارٹی کے اقلیتی قائدین نے کہا ہے کہ بی آر ایس اقلیتی رہنماؤں کی جانب سے ورنگل مغرب کے رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی پر لگائے گئے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ بدھ کے روز ہنمکنڈہ ڈی سی سی بھون میں کانگریس اقلیتی شعبہ کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر ورنگل وقف بورڈ کے سابق چیئرمین اسماعیل نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں مسلم اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اقتدار میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل کو نظر انداز کرتے رہے، وہ اب صرف سیاسی فائدے کے لیے اقلیتوں کا نام استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی نے مسلمانوں کے قبرستان کے لیے تین ایکڑ اور عیسائی برادری کے قبرستان کے لیے مزید تین ایکڑ اراضی مختص کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قبرستان کی مکمل ترقی، سڑک، چار دیواری اور گیٹ جیسی سہولتیں فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا گیا ہے۔

اسماعیل نے مزید کہا کہ بی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کو 12 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسے پورا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت خلوص کے ساتھ اقلیتوں کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہے اور رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی مسلسل اقلیتوں کی ترقی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔تحریک کار رحیم النساء بیگم نے کہا کہ سابق ٹی آر ایس حکومت کے دور میں مسلمانوں کی ضروریات کو نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ شادی خانہ کے لیے زمین مانگی گئی تھی مگر اس وقت کوئی مثبت جواب نہیں ملا، بلکہ پہلے سے مختص کی گئی جگہ بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت بننے کے بعد شادی خانہ کی تعمیر کے لیے زمین مختص کرنے کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا۔کانگریس کے اقلیتی قائدین نے بتایا کہ سروے نمبر 579 میں 25 گنٹہ زمین شادی خانہ کے لیے مختص کی گئی تھی، لیکن اس وقت کے اقلیتی بہبود کے افسر نے اس جگہ کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے دوسری جگہ مختص کرنے کی سفارش کی، جس پر ضلع کلکٹر نے اس الاٹمنٹ کو منسوخ کر دیا تھا۔

بعد میں یہ معاملہ رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی کے علم میں آنے پر انہوں نے فوری طور پر متعلقہ حکام سے بات کی، جس کے بعد منسوخ شدہ الاٹمنٹ بحال کر دی گئی اور اس سے متعلق سرکاری حکم نامہ (جی او) بھی جاری کیا گیا۔ قائدین نے کہا کہ اس پورے معاملے میں رکن اسمبلی نے اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے خصوصی دلچسپی لی۔کانگریس اقلیتی قائدین نے کہا کہ بی آر ایس اقلیتی رہنماؤں کے الزامات عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کے لیے کانگریس حکومت اور رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی کی جانب سے کیے جا رہے اقدامات عوام کے سامنے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح پابندِ عہد ہے۔اس پریس کانفرنس میں سابق کارپوریٹر نسیم، ڈویژن صدر جعفر، قائدین غوث پاشاہ، زبیدہ بیگم، عائشہ اور دیگر موجود تھے۔

News source : M.F. Baig Riaz