Allegations of commercial use of the land dedicated to the Dargah in Warangal, demand for an investigation from the District Collector

(اپنا ورنگل)
ورنگل :
حضرت زندہ بکن درویشؒ درگاہ اور مسجد سے وابستہ محفوظ وقف زمین پر غیر قانونی طور پر ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور قائم کیے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے درگاہ کمیٹی نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پیر کے روز منعقدہ پراجاوانی پروگرام میں ضلع کلکٹر ڈاکٹر ستیہ شاردا کو ایک تحریری درخواست پیش کی گئی۔
درگاہ کمیٹی کے نمائندوں کے مطابق ورنگل ضلع کے قلعہ ورنگل منڈل کے عرس جاگیر گاؤں میں سروے نمبر 273، 274، 275 اور 276 پر واقع نوٹیفائیڈ وقف زمین میں تلنگانہ وقف بورڈ کی کسی بھی قانونی اجازت، تحریری منظوری، درست لیز معاہدہ یا این او سی (عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) کے بغیر تجارتی مقصد کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور نصب کیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ وقف بورڈ کی اجازت کے بغیر وقف اراضی پر کسی بھی قسم کی تعمیر یا اسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا وقف قانون کے خلاف ہے۔ کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ وقف جائیداد کے حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ ایک مقدس مذہبی وقف زمین پر ناجائز قبضے کے مترادف ہے۔درگاہ کمیٹی نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ بھاری لوہے کے ڈھانچے پر مشتمل اس ٹاور کی وجہ سے وقف جائیداد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
کمیٹی نے ضلع کلکٹر سے مطالبہ کیا کہ ٹاور کی تنصیب سے متعلق تمام اجازت ناموں کی مکمل جانچ کرائی جائے اور اگر یہ ثابت ہو کہ ٹاور غیر قانونی طور پر قائم کیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر ہٹایا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔درگاہ کمیٹی نے اپنی درخواست میں یہ بھی اپیل کی کہ پراجاوانی پروگرام میں پیش کی گئی اس شکایت کی متعلقہ محکموں سے مکمل تحقیقات کروا کر مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے۔
News Source : M.F. Baig Riaz

