امیر طبقہ مزید دولت مند، محنت کشوں کی آمدنی میں مسلسل کمی: مکتھل میں جیل بھرو احتجاج۔

The rich class is getting richer, the income of the workers is continuously decreasing: Jail-filling protest in Makthal

(اپنا ورنگل)

مکتھل:

مزدور، کسان اور زرعی مزدور تنظیموں کے زیراہتمام مکتھل میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ کوئٹ انڈیا تحریک کی یاد تازہ کرتے ہوئے آر اینڈ بی گیسٹ ہاؤس سے احتجاجی ریالی نکالی گئی، جو امبیڈکر چوک پہنچ کر راستہ روکو احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔ احتجاجیوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک سڑک پر دھرنا دیتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بلند کیے۔

بعد ازاں پولیس نے متعدد احتجاجیوں کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔اس موقع پر زرعی مزدور سنگھ کے ضلع صدر اے سلیم، سی آئی ٹی یو ضلع صدر گووند راج، زرعی مزدور سنگھ کے ضلع صدر پونجنورو آنجنیلو، کسان سنگھ ضلع صدر بھگوانت، ٹی یو سی آئی ضلع نائب صدر اے جی بھٹو اور طلبہ تنظیموں کے قائدین بی بھاسکر و مہندر نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ ملک میں ایک طرف امیر اور کارپوریٹ طبقے کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جبکہ دوسری جانب مزدوروں اور محنت کشوں کی آمدنی کم ہوتی جارہی ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کو متاثر کرنے والے چاروں لیبر کوڈز کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو مناسب اجرت اور سماجی تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ترقی پسند یوتھ ایسوسی ایشن کے ضلع جنرل سکریٹری سدھو، ڈی وائی ایف آئی کے ضلع قائدین بالو، راجیش، نریش اور راگھویندر نے کہا کہ دیہی مزدوروں کے روزگار کو متاثر کرنے والے وی بی جی رام جی بل کو واپس لیا جائے اور مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم کو مؤثر انداز میں جاری رکھا جائے۔مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں اور ملازمین کے لیے کم از کم 26 ہزار روپے ماہانہ اجرت مقرر کی جائے، ملازمت کا تحفظ فراہم کیا جائے اور پی ایف، ای ایس آئی سمیت تمام ضروری سماجی تحفظ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں اور زرعی مصنوعات کی درآمد سے ملکی کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث کسان معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو غذائی تحفظ فراہم کرنے والے کسان کے مفادات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

احتجاجی قائدین نے مرکزی بی جے پی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کارپوریٹ مفادات پر مبنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ملک کی اکثریتی غریب، متوسط، کسان اور محنت کش آبادی کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔

اس پروگرام میں آشا ورکرس یونین کی کرّیم کرشنا، کسان سنگھ سب ڈویژن صدر آنندو، اوساؤلنی پلی کے نائب سرپنچ چنّپا، پاتاپلی کے سابق سرپنچ کرشنیا، ایلاپا، ملیش، وینکٹیش، راجو، یشودا، امینہ، اشوک، چنّپا، کے اشوک، مَمتا، آنگن واڑی ٹیچرس بسولنگمّا، منجولا، وجئے لکشمی، ہریتا، کرشنیا، بالراج، تمّپا، رامانجنیلو اور ملیش سمیت مختلف تنظیموں کے قائدین و کارکنان نے شرکت کی۔

News Source : Mohd. Mujeeb