شیخاپور میں جوش و خروش سے 80واں یومِ آزادی منایا گیا؛ دفتر گرام پنچایت، رائتو ویدیکا اور اسکولوں میں پرچم کشائی۔

80th Independence Day celebrated with enthusiasm in Shikhapur; Flag hoisted at Gram Panchayat office, Rythu Vedika and schools

(اپنا ورنگل)

ظہیرآباد  :
ظہیرآباد کے تحت واقع گرام پنچایت شیخاپور میں ملک کا 80واں یومِ آزادی انتہائی شان و شوکت اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر دفتر گرام پنچایت، رائتو ویدیکا آفس اور دونوں سرکاری اسکولوں میں قومی پرچم کشائی کی پروقار تقریبات منعقد ہوئیں۔دن کا آغاز سرکاری اداروں اور اسکولوں میں پرچم کشائی کے ساتھ ہوا:* دفتر گرام پنچایت: یہاں گرام پنچایت کے ہر ہر دلعزیز سرپنچ جناب محمد چشم الدین نے دستوری شان و شوکت کے ساتھ صبح کی اولین ساعتوں میں قومی پرچم لہرایا۔

اس تقریب میں پنچایت سکریٹری محترمہ بھگیہ لکشمی، نائب سرپنچ محترمہ نعمت آباد پدمما اور تمام وارڈ ممبران (محمد سیف الدین، گوٹاٹی شیکھر، محمد نعیم الدین، محمد ظہیر الدین، محمد غوث الدین اور محمد پاشا میاں) نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ بلدیاتی امور کے کارکنان محمد فیروز خان صاحب اور محمد ناصر میاں بھی اس تقریب میں شریک رہے۔

* رائتو ویدیکا آفس (Raithu Vedica Office): یہاں محکمہ کی ذمہ دار (AEO) محترمہ شوا پریا (Shiva Priya) نے قومی پرچم لہرایا اور کسان بھائیوں اور ورکرز کے ساتھ مل کر یومِ آزادی کی خوشیاں منائیں۔

* سرکاری زیڈ پی ایچ ایس ہائی اسکول (ZPHS School): ہائی اسکول کے احاطے میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جہاں اسکول کے ہیڈ ماسٹر سنگیہ صاحب (Sangaiah Sb – HM) نے قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر اساتذہ، طلباء اور معززینِ علاقہ موجود تھے۔ بچوں نے ولولہ انگیز تقاریر کیں اور مختلف پروگرام پیش کیے۔

* گورنمنٹ پرائمری اسکول (MPPS): پرائمری اسکول میں بھی قومی پرچم لہرانے کی تقریب عمل میں آئی، جہاں پرائمری اسکول کی ہیڈ ماسٹر مادھوی میڈم (Sri Madhavi Medam) نے پرچم کشائی کی۔ اس موقع پر معصوم بچوں نے بھی بھرپور حصہ لیا اور کھیل کود کے مقابلوں میں کامیاب ہونے والے طلباء میں انعامات تقسیم کیے گئے۔

جشنِ آزادی کے اس پرمسرت موقع پر گرام کے معززین اور عوام کی کثیر تعداد موجود تھی، جن میں نمایاں طور پر سابق سرپنچ چنّا ریڈی پٹیل، محمد عارف، محمد خورشید، محمد شوکت، محمد رؤف، محمد شہاب الدین، مسجد کمیٹی کے سابق صدر محمد نصیر الدین صاحب، محمد بابو خان صاحب، محمد محبوب پاشاہ، عبدالماجد، محمد فیض الدین، شیخ علی، نعل صاحب حاجی، نارائن گؤڈ، نگرگری پروین، مجاہد، فیاض (واٹر پلانٹ) اور ریگنڈا عامر کے علاوہ گاؤں کے دیگر معزز افراد کی کثیر تعداد شامل تھی۔

تمام مقامات پر شرکاء نے قومی پرچم کو سلامی دی اور فضا "ہندوستان زندہ آباد” کے نعروں سے گونج اٹھی۔ تقریب کے اختتام پر وطن کی سلامتی، امن و ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر شاعر مشرق کا یہ شعر گونجتا رہا: سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا، ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا۔

News Source : Gulam Mustafa