Where has the punctuality in weddings gone? The wedding time is 8 pm, the start is 11 pm! When will this tradition change

(اپنا ورنگل)
ورنگل :
ورنگل شہر میں شادی بیاہ اور دعوتوں کا دیر سے شروع ہونا ایک عام روایت بنتی جا رہی ہے۔ دعوت نامے پر صاف لکھا ہوتا ہے: ’’نکاح رات 8 بجے، اس کے بعد عشائیہ‘‘، لیکن حقیقت میں نکاح 8 بجے تو دور کی بات، اکثر دلہا دلہن خود رات 10 یا 11 بجے تک فنکشن ہال پہنچتے ہیں۔ بارات کے پروگرام ہوں تو رات 12 بجے تک انتظار کرنا بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں رہی۔ بعض اوقات تو رسومات اتنی دیر سے شروع ہوتی ہیں کہ رات ختم اور نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔
آج کل ایک نیا رجحان بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ نکاح مسجد میں کردیا جاتا ہے اور اس کے بعد دلہا دلہن کافی دیر رات فنکشن ہال پہنچتے ہیں۔ پھر وہاں مختلف رسومات اور پروگرام نصف شب کے بعد تک جاری رہتے ہیں۔ بظاہر یہ سب شادی کی خوشی کا حصہ ہے، لیکن اس تاخیر کا سب سے زیادہ اثر ان مہمانوں پر پڑتا ہے جو دور دراز علاقوں سے آتے ہیں یا جن کے ساتھ بزرگ، بچے اور بیمار افراد ہوتے ہیں۔عجیب صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی مہمان دعوت نامے پر درج وقت کے مطابق رات 8 بجے فنکشن ہال پہنچ جائے تو بعض لوگ اسے ہی ’’جلدی آنے والا‘‘ سمجھنے لگتے ہیں۔
گویا وقت پر پہنچنا اب ہماری شادیوں میں غیر معمولی بات بن گئی ہے۔یہ رویہ آہستہ آہستہ اتنا عام ہوگیا ہے کہ لوگوں نے اسے غلط سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ رات دیر تک انتظار کرنا ہر شخص کے لیے آسان نہیں۔ خصوصاً بزرگوں، بچوں، ذیابیطس کے مریضوں، خواتین اور دور سے سفر کرکے آنے والے مہمانوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض لوگ صرف اس لیے شادی کی تقریب سے جلد واپس ہوجاتے ہیں کہ انہیں صبح اپنے کام، دفتر یا دیگر ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں۔

شادی خوشی کا موقع ہے، لیکن خوشی منانے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کے وقت اور آرام کو نظر انداز کردیا جائے۔ جس وقت کا دعوت نامے میں اعلان کیا جائے، کوشش ہونی چاہیے کہ پروگرام اسی وقت شروع ہو۔ اگر کسی وجہ سے وقت میں تبدیلی ہو تو مہمانوں کو پہلے سے اطلاع دینا بھی ایک اچھے انتظام کی علامت ہے۔ہمارے معاشرے میں وقت کی پابندی صرف اسکول، دفتر یا کاروبار تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ شادی بیاہ اور دعوتوں میں بھی وقت کی قدر کرنا تہذیب، شائستگی اور دوسروں کے احترام کی علامت ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے انتظار کو معمول نہ بنائیں۔ دلہا دلہن کا وقت بھی اہم ہے اور مہمانوں کا وقت بھی۔ شادی چند گھنٹوں کی خوشی ہے، لیکن اس خوشی کی وجہ سے کسی بزرگ کی نیند، کسی مریض کی صحت یا کسی بچے کی تکلیف کا سبب بننا مناسب نہیں۔آخر کب تک ’’شادی ہے، دیر تو ہوگی‘‘ کہہ کر تاخیر کو معمول سمجھا جاتا رہے گا؟ کیا ہم شادی کی خوشی کے ساتھ وقت کی پابندی اور مہمانوں کے احترام کو بھی اپنی روایت کا حصہ نہیں بنا سکتے؟
Columnist: M.F. Baig Riaz

