مرکزی میلاد کمیٹی ہنمکنڈہ کا اہم اجلاس،انتظامات کا تفصیلی جائزہ،ممتاز علماء کے خطابات اور دینی و فلاحی پروگراموں کا اعلان۔

Important meeting of the Central Milad Committee, Hanamkonda, Detailed review of arrangements, speeches by distinguished scholars and announcement of religious and welfare programs

(اپنا ورنگل)

ورنگل :

مرکزی میلاد کمیٹی ہنمکنڈہ، ورنگل کے زیر اہتمام 11 ربیع الاول 1448 ہجری کو منعقد ہونے والے سالانہ میلاد شریف پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اہم اجلاس مدرسہ برکاتیہ،رائے پورہ  میں صدر کمیٹی الحاج خواجہ سراج الدین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا گیا۔

اجلاس کا آغاز حافظ محمد تنویر احمد نوری نے تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے کیا۔بعد ازاں حضرت مولانا خواجہ جعفر العابدین رضوی نے میلاد شریف کی اہمیت، فضیلت اور برکات پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عشقِ رسول ﷺ کے اظہار اور دینی شعور کو فروغ دینے کے لیے ایسے اجتماعات نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے مزید اپنے خطاب میں کہا کہ میلادِ رسولِ اکرم ﷺ کا انعقاد دراصل حضور نبی کریم ﷺ سے محبت، عقیدت اور وابستگی کے اظہار کا بہترین ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیرتِ طیبہ پر عمل ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے، اس لیے ہر مسلمان کو حضور ﷺ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔انہوں نے مزید فرمایا کہ میلاد شریف کی محافل سے ایمان تازہ ہوتا ہے، نئی نسل کو دین کی صحیح تعلیمات سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے اور معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور اخلاقِ حسنہ کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔

مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے روحانی اجتماعات امتِ مسلمہ میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے اور اسلامی اقدار کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کمیٹی کے رکن حافظ محمد افضل علی شاہ نقشبندی نے گزشتہ تیس برسوں کی کارکردگی پر مشتمل رپورٹ پیش کی اور ان تمام اراکین، معاونین اور عوام کا شکریہ ادا کیا جو ہر سال اس مذہبی اجتماع کی کامیابی میں بھرپور تعاون کرتے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سال کے مرکزی جلسۂ میلاد سے خطیبِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد گلفام رضا (رام پور)، خطیب الہند مفکرِ اسلام حضرت علامہ مولانا محمد عمر نورانی (آسنانہ بیت الانوار، جھارکھنڈ)، مبلغ سنی دعوت اسلامی حضرت مولانا سید عبدالرزاق شاکر نوری (حیدرآباد)، ترجمانِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا الحاج خواجہ جعفر العابدین قادری رضوی (ورنگل) اور مخلصِ قوم و ملت سید مخدوم محی الدین (ورنگل)  تلگو زبان میں خطاب کریں گے۔

اجلاس کے دوران یہ بھی اعلان کیا گیا کہ جلسۂ میلاد کے موقع پر مدرسہ برکاتیہ کے آٹھ طلبہ کو ممتاز علماء و مشائخ کے ہاتھوں سند اور دستار سے نوازا جائے گا۔ اس کے علاوہ لنگرِ عام، سرکاری دواخانوں میں زیر علاج مریضوں میں پھلوں کی تقسیم اور ہنمکنڈہ و ورنگل کے سرکاری و نجی اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے درمیان تقریری، تحریری اور نعتیہ مقابلوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

شرکائے اجلاس نے ان تمام پروگراموں کی کامیاب تنظیم کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں اور انتظامات کو بہتر بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ اجلاس میں مرکزی میلاد کمیٹی کے ارکان کی بڑی تعداد شریک رہی۔اجلاس کا اختتام حضرت علامہ مولانا الحاج خواجہ جعفر العابدین رضوی و قادری کی دعا پر ہوا۔

مرکزی میلاد کمیٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سالانہ میلاد شریف کے اس روحانی اور دینی اجتماع میں بھرپور شرکت کرکے انتظامات میں اپنا تعاون پیش کریں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی پروگرام کو مذہبی عقیدت، نظم و ضبط اور خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔

News Source : M.F. Baig Riaz