منشیات: انسانیت کی تباہی بربادی اور اسلام کا دوٹوک مؤقف,قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں منشیات کی حرمت:مولانا محمد محسن پاشاہ قادری

Drugs: The destruction of humanity and the categorical stance of Islam, the prohibition of drugs in the light of the Holy Quran and the Hadiths of the Prophet Mohammad (peace be upon him): Moulana Mohammad Mohsin Pasha Qadri

(اپنا ورنگل)

 اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی روحانی ، اخلاقی ، جسمانی اور معاشرتی فلاح و بہبود کا ضامن ہے ۔ دینِ اسلام نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان میں ہر وہ شئی شامل ہے جو انسانی عقل ، صحت ، کردار ، خاندان اور معاشرے کو نقصان پہنچائے ۔ منشیات بھی انہی مہلک اور تباہ کن اشیاء میں شامل ہیں جنہیں اسلام نے قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے ۔ آج پوری دنیا منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پریشان حال ہے۔

نوجوان نسل اس لعنت کا سب سے بڑا شکار بن رہی ہے ، جس کے نتیجے میں اخلاقی گراوٹ ، جرائم ، خاندانی تباہی ، معاشی بدحالی اور بے شمار سماجی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔اسلام چونکہ انسانیت کا محافظ دین ہے ، اس لئے اس نے چودہ سو سال قبل ہی ان تمام چیزوں سے منع فرما دیا جو عقل و شعور کو مفلوج کر دیتی ہیں اور انسان کو حیوانیت کے درجے تک پہنچا دیتی ہیں ۔

قرآنِ حکیم کی روشنی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ”
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! شراب ، جوا ، بت اور فال کے تیر ناپاک شیطانی کام ہیں ، لہٰذا ان سے بچو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔‘‘ (سورۂ المائدہ: 90)اس آیتِ کریمہ میں شراب کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے ۔ فقہائے اسلام اور مفسرین نے واضح فرمایا ہے کہ حکم کا مدار نشہ پر ہے ، لہٰذا ہر وہ چیز جو نشہ پیدا کرے اور عقل کو زائل کرے ، شراب کے حکم میں داخل ہے ۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ” ترجمہ: ’’اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘ (سورۂ البقرہ: 195) منشیات کا استعمال یقینی طور پر جسمانی ، ذہنی اور روحانی ہلاکت کا سبب بنتا ہے ، اس لئے یہ آیت بھی اس کی حرمت پر دلالت کرتی ہے ۔اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا” ترجمہ: ’’اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو ، بے شک اللہ جل مجدہ تم پر بڑا مہربان ہے۔‘‘ (سورۂ النساء: 29) منشیات آہستہ آہستہ انسان کی جان ، صحت اور زندگی کو ختم کر دیتی ہیں ، لہٰذا ان کا استعمال اس آیت کی صریح مخالفت ہے ۔

احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خاتم النبیین شفیع المذنبین رحمۃ اللعٰلمین حضور اکرم رسول معظم صل اللہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ وسلم نے فرمایا:
"كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ” ترجمہ: ’’ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم ) – یہ حدیثِ مبارکہ منشیات کی حرمت کے سلسلے میں بنیادی اصول فراہم کرتی ہے ۔ چونکہ افیون ، چرس ، گانجا ، ہیروئن ، کوکین ، آئس ، نشہ آور گولیاں اور دیگر تمام منشیات نشہ پیدا کرتی ہیں ، اس لئے وہ سب شرعاً حرام ہیں۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :"مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ” ترجمہ: ’’جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے ، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ۔‘‘ ( سنن ابی داؤد، جامع ترمذی ) – اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ نشہ آور اشیاء کی معمولی مقدار بھی جائز نہیں ۔

حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ وَمُفَتِّرٍ” – ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے ہر نشہ آور اور سستی پیدا کرنے والی چیز سے منع فرمایا ہے۔‘‘ ( سنن ابی داؤد ) – محدثین نے لکھا ہے کہ "مفتر” سے مراد وہ اشیاء ہیں جو اعصاب کو کمزور اور عقل و شعور کو متاثر کریں ، لہٰذا جدید منشیات اس حکم میں بدرجہ اولیٰ داخل ہیں۔

منشیات کے تباہ کن اثرات منشیات انسان کی جسمانی صحت کو تباہ کر دیتی ہیں ۔ دل ، جگر ، گردے اور دماغ شدید متاثر ہوتے ہیں ۔ نفسیاتی بیماریاں ، ڈپریشن ، بے خوابی اور ذہنی انتشار پیدا ہوتا ہے ۔ منشیات کا عادی شخص نہ صرف اپنی زندگی برباد کرتا ہے بلکہ اپنے اہل خانہ کو بھی شدید اذیت میں مبتلا کرتا ہے۔

معاشرتی اعتبار سے منشیات جرائم کی ماں ہیں ۔ چوری ، ڈکیتی ، قتل ، بدعنوانی اور اخلاقی بے راہ روی کے اکثر واقعات کے پس منظر میں منشیات کا کردار موجود ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ابتدا ہی میں اس دروازے کو بند کر دیا ۔نوجوان نسل اور ہماری ذمہ داریاں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین ، اساتذہ ، علماء کرام ، سماجی تنظیمیں اور حکومتی ادارے مل کر نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کریں ۔ مساجد ، مدارس ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بیداری مہم چلائی جائے ۔ نوجوانوں کو دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ اس مہلک لعنت سے محفوظ رہ سکیں۔

علماء کرام اور خطباء کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں منشیات کی حرمت کو عام کریں اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لئے مؤثر کردار ادا کریں۔اسلام نے انسان کی جان ، عقل ، مال ، نسل اور عزت کے تحفظ کو بنیادی مقاصدِ شریعت قرار دیا ہے۔ منشیات ان تمام مقاصد کو تباہ کر دیتی ہیں، اسی لئے قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبوی ﷺ نے ہر قسم کی نشہ آور اشیاء کو حرام قرار دیا ہے۔ ایک مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ خود بھی منشیات سے دور رہے اور اپنے خاندان، معاشرے اور خصوصاً نوجوان نسل کو بھی اس تباہ کن لعنت سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے، اپنی نسلوں کی حفاظت کرنے اور منشیات جیسی مہلک برائیوں سے اپنے معاشرے کو پاک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔