Is Maulana Azad National Urdu University no longer an ‘Urdu’ university

(اپنا ورنگل)
حیدرآباد :
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) میں حالیہ دنوں ایک نئے تعلیمی رجحان کو لے کر علمی و ادبی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ایک نئے کورس کی تشہیر کے لیے اردو کے بجائے انگریزی زبان کا نمایاں استعمال کیے جانے پر مختلف حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور تشہیری پوسٹرز میں انگریزی زبان کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ یونیورسٹی کا قیام بنیادی طور پر اردو زبان کے فروغ اور اردو ذریعۂ تعلیم کے مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی تشہیر سے اردو کی حیثیت اور شناخت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تشہیری پوسٹر میں یہ بھی درج ہے کہ غیر اردو داں طلبہ بھی داخلہ لے سکتے ہیں، جس پر بعض حلقوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یونیورسٹی کے بنیادی تعلیمی کردار میں تبدیلی کا تاثر ابھر رہا ہے۔ بعض اساتذہ اور دانشوروں کا خیال ہے کہ اگر اسی طرزِ عمل کو جاری رکھا گیا تو مستقبل میں اردو کو بتدریج پس منظر میں دھکیلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس سلسلے میں تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی تعلیمی پالیسی یا تشہیری حکمتِ عملی میں یونیورسٹی کے قیام کے بنیادی مقاصد اور اردو زبان کی مرکزی حیثیت کو ہر حال میں ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔
News Source :M.F. Baig Riaz

