Detailed memorandum submitted to the Collector regarding the issue of protection of waqf land in Warangal

(اپنا ورنگل)
ورنگل :
ورنگل ضلع کے قلعہ ورنگل منڈل کے عرس جاگیر علاقے میں واقع درگاہ زندہ بکن درویش اور مسجد سے متعلق وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے قانونی کارروائی تیز کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں پیر کے روز ضلع کلکٹریٹ میں منعقدہ پرجا وانی (عوامی شکایات) پروگرام کے دوران محمد زین العابدین اور محمد علی نے ضلع کلکٹر ڈاکٹر ستیہ شاردہ کو ایک یادداشت پیش کی۔
یادداشت میں کہا گیا کہ پدماوتی کالج کے عقب میں واقع سروے نمبر 273، 274، 275 اور 276 کی اراضی کا سروے ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے اور وقف بورڈ کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات بھی عمل میں نہیں لائے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان اراضیوں کو کسی بھی شخص کی خرید و فروخت، قبضہ یا ناجائز تجاوزات سے بچانے کے لیے وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 52-اے کے تحت سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے ناقابلِ ضمانت مقدمات درج کیے جائیں۔
درخواست گزاروں نے کہا کہ اسی معاملے پر جلد ہی ورنگل پولیس کمشنر کو بھی ایک تفصیلی شکایت پیش کی جائے گی۔یادداشت میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ورنگل ضلع کلکٹر نے 4 مئی 2026 اور ضلع وقف انسپکٹر نے 14 مئی 2026 کو ملز کالونی پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو خطوط روانہ کرتے ہوئے وقف ایکٹ کی دفعہ 52-اے کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی تھی۔
تاہم پولیس نے 14 مئی 2026 کو ایف آئی آر نمبر 308/2026 صرف بی این ایس کی دفعات 329(3) اور 3(5) کے تحت درج کی۔درخواست گزاروں نے کہا کہ وقف جائیدادوں پر ناجائز قبضہ، خرید و فروخت یا ان کی غیر قانونی منتقلی جیسے جرائم پر وقف ایکٹ کی دفعہ 52-اے(2) براہِ راست لاگو ہوتی ہے اور یہ جرائم قابلِ دست اندازی پولیس اور ناقابلِ ضمانت ہیں۔
انہوں نے ضلع کلکٹر سے مطالبہ کیا کہ پہلے سے درج ایف آئی آر میں مناسب ترمیم کرتے ہوئے وقف ایکٹ کی دفعہ 52-اے کے علاوہ بی این ایس کی دفعات 318، 322، 335، 336(2)، 336(3)، 337، 338 اور 340 بھی شامل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں، تاکہ وقف جائیدادوں کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
News Source : M.F. Baig Riaz

