Use education as a weapon to reach your destination: SP Dr. Vineet, *Hunger* and desire for success is essential to get a job, instead of fearing failures, move forward as experience

(اپنا ورنگل)
نارائن پیٹ :
تعلیم انسان کی زندگی بدلنے کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے اور اگر نوجوان اپنے مقصد کا تعین کرتے ہوئے مستقل مزاجی، نظم و ضبط اور مثبت سوچ کے ساتھ محنت کریں تو کوئی بھی منزل ان کے لیے ناممکن نہیں ہے۔ تعلیم کو اپنا مضبوط ہتھیار بناتے ہوئے نوجوان نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کے مستقبل کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ضلع ایس پی ڈاکٹر جی. ونیت آئی پی ایس نے کیا۔نارائن پیٹ ضلع مرکز کے شیلا گارڈنز میں آپریشن مرسی انڈیا فاؤنڈیشن (OMIF) کے زیر اہتمام جوگنیوں کے بچوں، بے روزگار نوجوانوں، طلبہ، غریب خواتین اور ہیلتھ ورکرس کے لیے ملازمت کے حصول، تعلیم اور روزگار کے مواقع سے متعلق ایک خصوصی بیداری پروگرام منعقد کیا گیا۔ ضلع ایس پی ڈاکٹر جی. ونیت آئی پی ایس نے پروگرام میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کرتے ہوئے شرکاء سے خطاب کیا۔
ایس پی ڈاکٹر ونیت نے کہا کہ تعلیم صرف کسی ایک فرد کی زندگی کو نہیں بدلتی بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان کے مستقبل پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ زندگی میں اپنے اہداف کو واضح طور پر متعین کریں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ مسلسل محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم میں دلچسپی، مضبوط ارادہ اور کامیابی کی تڑپ رکھنے والا نوجوان مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنی منزل حاصل کرسکتا ہے۔
انہوں نے ملازمت کے حصول کے لیے نوجوانوں میں ’’بھوک‘‘ اور کامیابی کی شدید تڑپ پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح انسان کو بھوک لگنے پر کھانا حاصل کرنے کے لیے پوری کوشش کرتا ہے، اسی طرح روزگار حاصل کرنے اور اپنے مقصد تک پہنچنے کی بھوک بھی نوجوان کے اندر موجود ہونی چاہیے۔ جب مقصد حاصل کرنے کی خواہش مضبوط ہو تو انسان مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلسل محنت کرسکتا ہے۔
ایس پی نے کہا کہ زندگی میں ناکامیوں اور مشکلات کا سامنا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن ناکامی سے مایوس ہوکر کوشش ترک کردینا کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نوجوان ناکامیوں کو اپنی کمزوری کے بجائے تجربہ سمجھیں اور ہر ناکامی کے بعد مزید عزم و حوصلے کے ساتھ اپنی کوشش جاری رکھیں۔انہوں نے نوجوانوں کو مثبت سوچ اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں یہ کرسکتا ہوں‘‘ کا یقین کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ نوجوان وقت ضائع کرنے کے بجائے روزانہ کے لیے مطالعہ کا منصوبہ بنائیں، مسابقتی امتحانات کی تیاری کریں، نئی مہارتیں حاصل کریں اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ملازمت و روزگار کے مواقع سے بھرپور استفادہ کریں۔
بے روزگار نوجوانوں کے لیے جلد اسٹڈی سرکل ایس پی ڈاکٹر ونیت نے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ پولیس میں ملازمتوں کے لیے حالیہ نوٹیفکیشن کے پیش نظر نارائن پیٹ ضلع کے بے روزگار نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے جلد ہی اسٹڈی سرکل قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس ملازمتوں کے علاوہ دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوانوں کے لیے بھی ضروری کتابیں، اسٹڈی میٹریل اور دیگر تعلیمی سہولیات مفت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے ضلع کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں، پوری سنجیدگی اور محنت کے ساتھ امتحانات کی تیاری کریں اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرکے اپنے خاندان، ضلع اور سماج کا نام روشن کریں۔خواتین کی تعلیم پر خصوصی زور خواتین کی تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ایس پی نے کہا کہ ایک خاتون کے تعلیم یافتہ ہونے سے صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان تعلیم کی روشنی سے منور ہوتا ہے۔
خواتین اور نوجوان لڑکیاں دستیاب تعلیمی، روزگار اور ہنرمندی کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی طور پر خودکفیل بنیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی دراصل خاندان اور معاشرے کی ترقی ہے۔ایس پی نے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، مثبت سوچ اور سماجی ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔ نوجوانوں کو بری عادتوں سے دور رہنے اور اپنا قیمتی وقت تعلیم، ہنرمندی کی ترقی اور روزگار کے حصول کی تیاری میں صرف کرنے کا مشورہ دیا۔
اس پروگرام کے دوران طلبہ، بے روزگار نوجوانوں، خواتین اور دیگر مستحقین کو ملازمت کے حصول کے لیے درکار مہارتوں، دستیاب مواقع اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کے بارے میں تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی۔پروگرام میں ڈی ایس پی مہیش، ڈی ایس پی نلّاپو لنگیا، ٹاؤن ایس آئی وینکٹیشورلو، ایس بی ایس آئی بھاگیہ لکشمی ریڈی، آپریشن مرسی انڈیا فاؤنڈیشن کی منیجر اینجلا ڈیوس، ضلع کوآرڈینیٹر آجاّمّا کے علاوہ ہیلتھ ورکرز، طلبہ، خواتین، نوجوان اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
News Source : Mohd. Ilyas

