نئے تعلیمی سال کا آغاز: ہماری ذمہ داریاں، اسلاف کا طرزِ عمل اور نسلِ نو کی ایمانی تربیت

The beginning of the new academic year: Our responsibilities, the practices of our ancestors, and the faith training of the new generation

(اپنا ورنگل)

تحریر: مولانا سید اعجاز حفیظ اَسعدی و رحمانی

(سیکریٹری: تنظیم الائمہ و المؤذنین — M.A., B.Ed.)

ورنگل:

۱۵ جون سے ریاست بھر میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ مرحلہ جہاں نونہالانِ ملت کے لیے نئی امیدیں لے کر آتا ہے، وہی مسلم معاشرے، بالخصوص والدین اور اسکول انتظامیہ کے لیے ایک سنگین امتحان اور عظیم ذمہ داری کا وقت بھی ہے۔ آج کے اس پُرآشوب اور فتنوں سے بھرے دور میں، جہاں مادی ترقی کی دوڑ لگی ہے، اپنے بچوں کے لیے صحیح تعلیمی ادارے کا انتخاب کرنا ہماری سب سے پہلی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہے۔

تعلیم کا اسلامی تصور اور تاریخ کا تسلسل :
اسلام کی بنیاد ہی علم پر ہے۔ غارِ حرا میں نازل ہونے والی پہلی وحی کا پہلا لفظ ’اِقْرَأْ‘ (پڑھ) تھا، جس نے جہالت کے اندھیروں میں علم کا چراغ روشن کیا۔ اسلام نے کبھی بھی علم کو دینی اور دنیاوی خانوں میں تقسیم نہیں کیا۔ ہر وہ علم جو کائنات کے حقائق کو بے نقاب کرے، انسان کو انسانیت سکھائے اور اللہ کی معرفت کا ذریعہ بنے، وہ اسلام کا مطلوبہ علم ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے کسی بھی دور میں نہ لڑکوں کو تعلیم سے دور رکھا اور نہ لڑکیوں کو۔ محسنِ کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔

صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کی علم دوستی :

اگر ہم تاریخِ اسلام کا مطالعہ کریں تو صحابہ کرام، صحابیات اور بزرگانِ دین نے علم کے حصول اور اس کے فروغ کے لیے وہ قربانیاں دیں جن کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
غزوہ بدر کا تاریخی فیصلہ: عہدِ رسالت میں تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کا فدیہ یہ طے کیا گیا کہ جو لکھنا پڑھنا جانتے ہیں، وہ انصار کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں، تو انہیں آزاد کر دیا جائے گا۔

یہ دنیا کی تاریخ کا پہلا اسکول تھا جہاں اساتذہ غیر مسلم اور طلبہ مسلمان تھے۔صحابہ و صحابیات کا علمی مقام: حضرت ابو ہریرہؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ جیسے جلیل القدر صحابہ نے علم کے لیے دور دراز کے اسفار کیے۔ وہیں خواتین کی تعلیم و تربیت کا یہ عالم تھا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اپنے دور کی سب سے بڑی فقیہہ، محدثہ اور طبیبہ (Doctor) تھیں، جن سے جبار صحابہ کرامؓ پیچیدہ مسائل دریافت کرنے آیا کرتے تھے۔

بزرگانِ دین کا فکری انقلاب: امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ، اور بعد کے ادوار میں ابنِ سینا، جابر بن حیان اور الغزالی جیسے بزرگانِ دین نے علم کو وہ فروغ دیا کہ مسلم جامعات (Universities) دنیا بھر کے لیے علم کا سرچشمہ بن گئیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں عصری علوم کی شمع لے کر ہی دنیا کی امامت کی جا سکتی ہے۔

موجودہ چیلنجز اور الحادی کلچر :

مگر افسوس! آج ہم جس مغربی تعلیمی نظام اور ماحول کا سامنا کر رہے ہیں، اس کا مادہ پرستانہ کلچر، سوشل میڈیا کی بے راہ روی اور جدید نظریات بچوں کے ذہن و دماغ کو اللہ، رسول ﷺ اور اخلاقی اقدار سے دور کرنے کی پُرزور کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس فکری و تہذیبی سیلاب سے اپنی معصوم نسلوں کے ایمان و حیا کی حفاظت کرنا اس وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

ملتِ اسلامیہ کے نام اہم تجاویز و گزارشات :

۱) صحیح تعلیمی اداروں کا انتخاب:** والدین اپنے بچوں کے لیے ایسے اسکولوں کو ترجیح دیں جہاں اعلیٰ معیار کی عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ’دینی تربیت‘ اور ’ایمانی ماحول‘ میسر ہو، جہاں بچوں کے اخلاق سنوارے جاتے ہوں۔

۲)  کونوینٹ اسکولوں کے والدین کے لیے انتباہ: جو والدین اپنے بچوں کو کسی مجبوری یا مصلحت کے تحت کونوینٹ یا دیگر مخلوط اسکولوں میں پڑھا رہے ہیں، ان پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی کڑی نگرانی (Monitoring)** کریں۔ اسکول سے واپسی پر ان کی گفتگو، نظریات، سہیلیوں/دوستوں اور اخلاق پر گہری نظر رکھیں اور ان کی ذہن سازی کریں۔

۳)  گھروں میں دینی تعلیم کا متبادل انتظام: یاد رکھیں کہ صرف اسکول کی تعلیم نسلوں کو مسلمان رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ بچوں کے لیے گھروں میں مکتب کی تعلیم، قرآنِ پاک کی تجوید کے ساتھ تلاوت اور بنیادی عقائد و اسلامی تاریخ کا پختہ انتظام کیا جائے تاکہ ان کا فکری رشتہ اسلاف سے جڑا رہے۔

مسلم اسکول مینجمنٹس کی ذمہ داریاں :

شہر اور اضلاع میں جتنے بھی مسلم مینجمنٹس کے تحت تعلیمی ادارے چل رہے ہیں، ان کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ:

وہ اپنے اسکولوں میں اعلیٰ ترین مادی و تعلیمی انتظامات کریں تاکہ ہمارے بچوں کو معیاری تعلیم کے لیے غیروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔

اسکولوں کے نصاب میں جدید علوم کے ساتھ ساتھ عملی طور پر اسلامی اخلاقیات، سیرتِ طیبہ ﷺ اور حیا کے نظام کو لازمی حصہ بنائیں۔

فیس کے نظام کو منصفانہ رکھیں تاکہ معاشرے کا غریب اور مستحق بچہ بھی علم کے نور سے محروم نہ رہے۔
خلاصہ کلام :

اگر آج ہم نے غفلت برتی اور اپنی نسلوں کے ایمان اور ان کے اخلاق کی حفاظت نہیں کی، تو آنے والی نسلیں اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

آئیے، اس ۱۵ جون سے شروع ہونے والے تعلیمی سال میں یہ پختہ عزم کریں کہ ہم اپنے بچوں اور بچیوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور دانشور بنانے کے ساتھ ساتھ ایک سچا، پکا اور باکردار مسلمان بھی بنائیں گے۔