The 80th Independence Day was celebrated with enthusiasm at the Mazharul Uloom Trust, Nizamabad

(اپنا ورنگل)
نظام آباد :
ادارہ مظہر العلوم ٹرسٹ نظام آباد میں ملکِ عزیز ہندوستان کا 80واں جشنِ آزادی نہایت جوش و خروش، ملی جذبے اور حب الوطنی کے احساسات کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ادارہ کے اساتذہ، طلبہ، معززینِ شہر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد جہاں وطنِ عزیز کی آزادی کی خوشی منانا تھا، وہیں نئی نسل کو آزادی کی جدوجہد، اس کے حقیقی پس منظر اور خصوصاً مسلمانوں اور علماءِ کرام کی لازوال قربانیوں سے روشناس کرانا بھی تھا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد طلبہ نے ملی و قومی جذبات پر مشتمل مختلف پروگرام پیش کیے۔
شعبۂ عالمیت کے طلبہ نے آزادیِ ہند کی تاریخ کے مختلف اہم عنوانات کو نہایت مؤثر اور معلوماتی انداز میں پیش کیا۔ طلبہ نے برصغیر کی آزادی کی جدوجہد، مجاہدینِ آزادی کی قربانیوں، علماءِ کرام کی جدوجہد اور انگریز سامراج کے خلاف برپا ہونے والی تحریکوں کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ طلبہ کی جانب سے پیش کی جانے والی تقاریر اور تاریخی واقعات نے حاضرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور نئی نسل کو یہ پیغام دیا کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار قربانیوں کا ثمر بھی ہے۔اس موقع پر نائب ناظم ادارہ مظہر العلوم ٹرسٹ حضرت مولانا آصف ایوبی صاحب نے آزادیِ ہند کے موضوع پر نہایت جامع، مدلل اور پرمغز خطاب فرمایا۔
انہوں نے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے خاص طور پر مسلمانوں اور علماءِ کرام کے نمایاں کردار کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں علماء نے محض تقریروں اور تحریروں کے ذریعے ہی نہیں بلکہ عملی میدان میں اتر کر بھی عظیم قربانیاں پیش کیں۔ علماء نے عوام میں بیداری پیدا کی، غلامی کے خلاف آواز بلند کی اور اپنے دین، وطن اور آزادی کے تحفظ کے لیے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔مولانا آصف ایوبی صاحب نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کو آزادی کی صحیح تاریخ سے واقف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اگر نوجوان اپنے اسلاف کی قربانیوں اور جدوجہد سے واقف ہوں گے تو ان کے اندر وطن سے محبت، ذمہ داری کا احساس اور قومی یکجہتی کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ تاریخ، اخلاق، خدمتِ خلق اور وطن کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔تقریب میں مہمانِ خصوصی مولانا اسماعیل عارفی صاحب، جناب نصیر الدین صاحب، جناب عبدالحفیظ کارپریٹر اور جناب عبدالباری کارپریٹر نے شرکت فرمائی۔ معزز مہمانوں کی آمد پر ادارہ کے ناظم محترم مولانا سید سمیع اللہ صاحب قاسمی پرتپاک استقبال کیا گیا۔
مہمانانِ گرامی نے ادارہ مظہر العلوم ٹرسٹ کی تعلیمی و تربیتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ طلبہ کو ملک کی تاریخ، قومی ذمہ داریوں اور معاشرتی مسائل سے آگاہ کرنا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔جشنِ آزادی کی اس تقریب میں طلبہ کی پیشکشیں خاص طور پر قابلِ توجہ رہیں۔ شعبۂ عالمیت کے طلبہ نے تاریخی واقعات کو ترتیب اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد کے مختلف مراحل کو اجاگر کیا۔ ان کی گفتگو میں علمی تیاری، اعتماد اور حب الوطنی کے جذبات نمایاں تھے۔ حاضرین نے طلبہ کی اس کاوش کو سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
تقریب میں مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آزادی کا جشن صرف ایک رسمی تقریب کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرنے، موجودہ آزادی کی قدر کرنے اور ملک و ملت کی تعمیر کے لیے اپنے فرائض کا جائزہ لینے کا موقع ہے۔ آج کی نسل اگر اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو سمجھتے ہوئے علم، اخلاق، اتحاد اور خدمت کے راستے کو اختیار کرے تو یہی آزادی کے جشن کا حقیقی مقصد ہوگا۔ادارہ مظہر العلوم ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ یہ تقریب مجموعی طور پر علمی، تاریخی، ملی اور قومی اعتبار سے نہایت بامقصد رہی۔ طلبہ نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریب کو یادگار بنایا، جبکہ علماء اور معزز مہمانوں کی شرکت نے پروگرام کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔
آخر میں نائب ناظم ادارہ مظہر العلوم ٹرسٹ حضرت مولانا آصف ایوبی صاحب نے ملک و ملت کی سلامتی، امن و خوشحالی، باہمی اتحاد اور وطنِ عزیز کی ترقی کے لیے دعا فرمائی۔ اسی دعا کے ساتھ ادارہ مظہر العلوم ٹرسٹ نظام آباد میں منعقدہ 80واں جشنِ آزادی کی یہ پروقار اور بامقصد تقریب اختتام پذیر ہوئی اس موقع پرمفتی شیخ محمود قاسمی،مولانا عاطف ایوبی،مولانا عبدالصمد حسامی،مولانا سید ثناء اللہ قاسمی،مولانا عبدالناصر قاسمی،مولانا زبیر مدنی،حافظ عتیق احمد، جناب اسماعیل، جناب صابر احمد، حافظ ابراہیم اشاعتی، حافظ عبدالولی، حافظ عامر پٹیل ،حافظ عالمگیر ،حافظ عیسی خان، حافظ واصف، مولوی اسامہ عبداللہ انجینر ودیگر موجود تھے۔
News Source : M.F. Baig Riaz

