ہائی ٹیک سٹی میں عرسِ شریف حضرت قطبِ صاحب قبلہؒ کا روح پرور اختتام-

اولیائے کرام اللہ تعالیٰ کے مقرب و محبوب بندے ، ان کی محبت ایمان کی علامت: اسدالعلماء مولانا محمد محسن پاشاہ قادری
قرآن و احادیث کی روشنی میں عظمتِ اولیاء اللہ پر مدلل خطاب ، علماء و مشائخ اور عقیدت مندوں کی کثیر تعداد شریک

Spiritual conclusion of the Urs-e-Sharif of Hazrat Qutb-e-Sahib Qibla (RA) in Hi-Tech City

(اپنا ورنگل)

حیدرآباد :

حیدرآباد میں قطبِ وقت ، عاشقِ خیرالبشر ، رہبرِ جہانِ طریقت ، غوثِ دوراں حضرت خواجہ محمد حسن برہانِ السالکین غوثِ الاعظمین ، حضرت الحاج خواجہ سید جمال شاہ قادری چشتی رحمۃ اللہ علیہ ، المعروف بہ قطبِ کریمیؒ کا سالانہ عرسِ شریف 9 ربیع الثانی تا 12 ربیع الثانی 1448ھ، مطابق 24 ستمبر تا 27 ستمبر ، مختلف روحانی و اصلاحی پروگراموں کے ساتھ منعقد ہونے کے بعد اختتام پذیر ہوا ۔ عرسِ شریف کے اجتماعات خانقاہِ قطب صاحبِ قبلہ ، جلالی پورہ ، سیدآباد ، ہائی ٹیک سٹی گلی ، چِین آباد شریف میں منعقد ہوئے ۔

عرس شریف کے موقع پر بعد نمازِ عشاء جلسہ ہائے ذکر و وعظ ، عظمتِ اولیاء اللہ اور دیگر روحانی و اصلاحی پروگرام منعقد ہوئے ، جن میں علماء کرام ، مشائخ عظام ، سجادگان ، خلفاء ، مریدین اور عقیدت مندوں نے شرکت کی ۔عرسِ شریف کی سرپرستی پیر طریقت گرامی ، رہبرِ شریعت حضرت سید محمد غوث احمد شاہ قادری چشتی کلیمی المعروف بہ غوثِ المذنب پیرِ کریمی صاحبِ قبلہ سجادہ نشین و متولی آستانۂ عالیہ حضرت ممدوّح حاجی مسجد جلالی نے فرمائی ۔

اس موقع پر جلسۂ عظمتِ اولیاء اللہ زیرِ نگرانی اولادِ امجاد حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ، پیرِ طریقت حضرت مولانا خواجہ سید شاہ رحمت محمد محمدالحسینی المعروف بہ رحمت بابا بندہ نوازی قبلہ چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل منعقد ہوا ، مولانا حافظ سید محمد محسن احمد شاہ قادری المعروف غوثِ عظمت پیرِ کریمی خلف و خلیفۂ سجادہ نشین و متولی خانقاہِ جلالیہ و درگاہِ حضرت ممدوحؒ نے مہمانوں کی گلپوشی و شال پوشی کی- دیگر علماء و مشائخ اور معززین مہمانان خصوصی موجود تھے ۔

اولیائے اللہ کی عظمت و رفعت قرآنِ حکیم سے ثابت ہے۔جلسۂ عظمتِ اولیاء اللہ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ نے قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں اولیائے اللہ کی عظمت و فضیلت اور کرامات پر مدلل اور مفصل خطاب کیا۔

انہوں نے قرآنِ مجید کی آیتِ کریمہ تلاوت کرتے ہوئے کہاکہ :
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ۝ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۚ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللّٰهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ۔
( سورۃ یونس: 62-64 )

ترجمہ: آگاہ و خبردار ہوجاؤ ! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے ۔ ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ، یہی بڑی کامیابی ہے ۔اسدالعلماء نے وضاحت کی کہ مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اولیائے کرام کی بنیادی صفات ایمان اور تقویٰ بیان فرمائی ہیں ۔ لہٰذا ولایت محض دعوے یا ظاہری نسبت کا نام نہیں بلکہ ایمان ، تقویٰ ، اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسولِ اکرم ﷺ سے وابستہ مقام ہے ۔

حدیثِ قدسی میں ولیِء خدا سے محبت کی اہمیت
انہوں نے حدیثِ قدسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
مَنْ عَادَىٰ لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ …
یعنی: جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے ، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں ۔
حدیثِ قدسی کا یہ مضمون واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں سے محبت و ادب اور ان کی توہین و مخالفت سے اجتناب ایک نہایت اہم دینی معاملہ ہے ۔
( صحیح البخاری ، کتاب الرقاق، باب التواضع )
اسدالعلماء نے کہا کہ اولیائے کرام کی سیرت کا بنیادی پیغام اللہ تعالیٰ کی بندگی ، رسولِ اکرم حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی اتباع ، شریعت کی پابندی ، تقویٰ ، اخلاص ، انسانیت کی خدمت اور اخلاقِ حسنہ ہے ۔ اولیاء اللہ کی محافل کا مقصد بھی یہی ہے کہ راسخ العقیدہ مسلمان اپنے ایمان و اعمال کی اصلاح کریں اور زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کا عزم مصمم کریں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اولیائے کرام کی محبت دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول ﷺ کی محبت کی طرف لے جانے والی محبت ہے ، بشرطیکہ اسے شریعتِ مطہرہ کے دائرے میں رکھا جائے ۔
عرسِ اولیاء اللہ روحانی و اصلاحی تربیت کا ذریعہ مولانا محسن پاشاہ نے یہ بھی کہا کہ اولیاء اللہ کی یاد میں منعقد ہونے والے اجتماعات میں قرآن خوانی ، ذکر و اذکار ، درود شریف صلوٰۃ و سلام ، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ ، وعظ و نصیحت اور ایصالِ ثواب کے ذریعے مسلمانوں کو نیکی ، تقویٰ ، حُسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کی طرف راغب کیا جاتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اولیاء کرام کی تعلیمات کو صرف تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے پیغام کو عملی زندگی میں بھی اختیار کیا جائے ۔

ملک و ملت کی سلامتی ، امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق ، عالمِ اسلام کے امن و استحکام ، بزرگانِ دین کے فیوض و برکات اور حاضرین کے لئے خصوصی دعائیں کی گئی ۔ عرسِ شریف میں شریک عقیدت مندوں نے حضرت قطب صاحب قبلہؒ کے مزار و آستانہ سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے فاتحہ خوانی اور ایصالِ ثواب کیا ۔
جمیع شرکاء کے لئے تناول طعام کا اہتمام کیا گیا تھا ۔