زندہ باپ کی قدر نہ ہوئی، وفات کے بعد ویڈیو کال پر آخری دیدار

Living father not appreciated, last visit via video call after death

(اپنا ورنگل)

ہریانہ :

ہریانہ کے ضلع سونی پت سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے بدلتے سماجی رشتوں اور کم ہوتی خاندانی اقدار پر کئی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک زمانے کے معروف تاجر، جنہوں نے اپنی پوری زندگی محنت کر کے خاندان کو سنبھالا اور اپنے بچوں کو اعلیٰ مقام تک پہنچایا، زندگی کے آخری دن تنہائی میں ایک اولڈ ایج ہوم میں گزارنے پر مجبور ہوئے اور وہیں ان کا انتقال ہوگیا۔بتایا جاتا ہے کہ زندگی بھر دولت اور جائیداد بنانے والے اس شخص کے آخری سفر میں کوئی اپنا ساتھ نہ تھا۔

ان کی موت کے بعد بھی وہ لاوارث کی طرح رہ گئے، کیونکہ ان کی بیٹیاں آخری دیدار کے لیے بھی وہاں نہیں پہنچ سکیں۔اطلاعات کے مطابق، مرحوم کی بیٹیوں نے والد کی آخری رسومات میں خود شریک ہونے کے بجائے موبائل فون پر ویڈیو کال کے ذریعے کارروائی دیکھی۔

انہوں نے آخری رسومات کے اخراجات کے لیے صرف 5,100 روپے بھیجے اور اسی کو اپنی ذمہ داری سمجھ لیا۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ والدین اپنی پوری زندگی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے قربان کر دیتے ہیں، لیکن بعض مواقع پر وہی اولاد ان کے آخری سفر میں بھی ساتھ نہیں دے پاتی۔ یہ دردناک منظر بدلتے سماجی رویوں اور خاندانی رشتوں میں بڑھتی دوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔

(Photo AI Generated) News  Source : Agency