Claim of land allotment in the name of Waqf Board is fictitious, advice to the public, imams and muezzins not to submit personal documents, legal action is under consideration

(اپنا ورنگل)
حیدرآباد :
تلنگانہ وقف بورڈ نے سوشل میڈیا پر گشت کررہے ایک پمفلٹ/نوٹس کو فرضی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس پر یقین نہ کریں۔ اس نوٹس میں خود کو ’’صوفی علماء کونسل‘‘ کہنے والی ایک تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بورڈ یا حکومت تلنگانہ راشن کارڈ، شناختی کارڈ یا آدھار کارڈ رکھنے والے ائمہ اور مؤذنین کی بیویوں، بہنوں یا ماؤں کو 99 گز اراضی لیز پر الاٹ کررہی ہے اور اس مقصد کے لئے کشن باغ کے ایک پتے پر درخواستیں طلب کی جارہی ہیں۔

تلنگانہ وقف بورڈ نے واضح کیا کہ ایسی کوئی اسکیم، نوٹیفکیشن یا اراضی الاٹمنٹ کا عمل بورڈ یا حکومت تلنگانہ کی جانب سے شروع، منظور یا مجاز نہیں کیا گیا ہے۔ بورڈ کا مذکورہ ’’صوفی علماء کونسل‘‘ یا پمفلٹ میں درج پتے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بورڈ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سلسلہ میں کوئی درخواست وصول نہیں کی جارہی ہے اور نہ ہی 15؍جولائی یا کوئی اور آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
بورڈ کے مطابق سروے نمبر اور مقام کی بنیاد پر اراضی کی نشاندہی اور الاٹمنٹ کا دعویٰ سراسر جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔ عوام، ائمہ، مؤذنین اور وقف اداروں سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ آدھار کارڈ، راشن کارڈ، شناختی ثبوت یا کوئی بھی ذاتی دستاویزات مذکورہ پتے پر داخل نہ کریں اور اس غلط اطلاع کا شکار نہ ہوں۔ وقف بورڈ نے بتایا کہ اس معاملہ کا سخت نوٹ لیا گیا ہے اور فرضی نوٹس پھیلانے والوں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
News Source : Agency

