برقعہ پر پابندی کی ہدایت پڑی بھاری؟ *گرو اپراجیتا 2026* پروگرام منسوخ

Burqa ban directive overturned? ‘Guru Aparajita 2026’ program cancelled

اپنا ورنگل کی خبر کا اثر، مہمانِ خصوصی کی عدم شرکت اور پولیس شکایتوں کے بعد منتظمین کا فیصلہ

(اپنا ورنگل)

ورنگل :

تلنگانہ اسٹیٹ پرائیویٹ ٹیچرس یونین (TGSPTU) کی جانب سے 20 ستمبر کو صوبیداری، ہنمکنڈہ کے راگھویندرا کنونشن ہال میں منعقد کیے جانے والے ’’گرو اپراجیتا 2026‘‘ ٹیچرس فلیسیٹیشن پروگرام کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ پروگرام کے دعوت نامے میں برقعہ پہننے پر پابندی سے متعلق جاری کردہ ہدایت کے خلاف مسلم کمیونٹی کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات اور اپنا ورنگل ڈاٹ کام پر شائع ہونے والی خبر کے بعد یہ معاملہ وسیع توجہ کا مرکز بن گیا۔

اپنا ورنگل ڈاٹ کام پر شائع خبر میں پروگرام کے دعوت نامے میں درج برقعہ سے متعلق ہدایت پر مسلم کمیونٹی کے اعتراضات، منتظمین سے معذرت خواہی کے مطالبے اور مذہبی آزادی و خواتین کے احترام سے متعلق عوامی تشویش کو نمایاں کیا گیا تھا۔ مذکورہ خبر کو مہمانِ خصوصی تک بھی پہنچایا گیا، جس کے بعد بعض مہمانِ خصوصی کی جانب سے پروگرام میں شرکت سے انکار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔دوسری جانب پولیس محکمہ، انٹلیجنس اور نوجوانوں کی جانب سے اس معاملے پر شکایات کیے جانے کے بعد پروگرام کی منسوخی عمل میں آنے کی اطلاع ہے۔

اس طرح اپنا ورنگل ڈاٹ کام پر شائع ہونے والی خبر نے اس معاملے کو متعلقہ ذمہ داران اور مہمانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں پروگرام کی منسوخی کے فیصلے پر عوامی سطح پر بھی توجہ مرکوز ہوئی۔مسلم کمیونٹی میں خوشی، مذہبی احترام کی اپیل پروگرام کی منسوخی کی اطلاع پر مسلم کمیونٹی کے مختلف حلقوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی ہدایات یا اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

مسلم کمیونٹی کے افراد نے کہا کہ تعلیمی، سماجی اور ثقافتی پروگراموں میں تمام مذاہب اور طبقات کے احترام کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے منتظمین اور ذمہ داران سے اپیل کی کہ آئندہ کسی بھی مذہب کی مذہبی شناخت، لباس یا جذبات سے کھلواڑ نہ کیا جائے اور تمام طبقات کے ساتھ مساوی احترام کا مظاہرہ کیا جائے۔عوامی حلقوں نے اس معاملے پر آواز اٹھانے والے افراد اور خبر کو نمایاں کرنے والے ذرائع ابلاغ کی کوششوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں پُرامن اور ذمہ دارانہ انداز میں عوامی تشویش کو سامنے لانا ضروری ہے۔