300 سالہ قدیم درگاہ کو اسپیڈ ایکسس روڈ منصوبے کے لیے منہدم کرنے کی تیاری؟ اسدالعلماء، کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ کا اے پی حکومت سے احتجاج-

Preparing to demolish 300-year-old dargah for speed access road project? Asadul Ulama, All India Sunni Ulema Mashaikh Board protest against AP government-

(اپنا ورنگل)

منگلاگیری: 

جنرل سیکریٹری کُل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویر صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن نے آندھراپردیش کے وزیر اعلی نارا چندرا بابو نائیڈو سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ منگلا گیری میں واقع تقریباً 300 سالہ قدیم بارگاہ حضرت سید مالک حسین درگاہ شریف کو مجوزہ اسپیڈ ایکسس روڈ منصوبے کی زد میں آنے کے باعث ہٹائے جانے کی اطلاعات پر نہ صرفہ مقامی و اے پی کے مسلمانوں بلکہ تمام اقباع عالم کے مسلمانوں اور درگاہ سے وابستہ عقیدت مندوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

یہ مجوزہ سڑک امراوتی کی سمت تعمیر کی جارہی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ تاریخی درگاہ شرہف منگلاگیری اسمبلی حلقہ میں واقع ہے ، جس کی نمائندگی ریاستی وزیر نارا لوکیش کرتے ہیں ۔ مجوزہ سڑک کی موجودہ الائنمنٹ کے باعث صدیوں پرانے اس مذہبی و تاریخی مقام کے متاثر ہونے کا قوی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔مقامی مسلم نمائندوں ، درگاہ شریف کے عقیدت مندوں اور عوام نے بھی حکومت اے پی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ درگاہ شریف کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے سڑک کی الائنمنٹ میں معمولی تبدیلی یا متبادل راستے پر غور کیا جائے ، تاکہ ترقیاتی منصوبہ بھی متاثر نہ ہو اور تاریخی ورثہ بھی محفوظ و مأمون رہے ۔

اس سلسلہ میں کمیونٹی کے نمائندوں نے آندھرا پردیش کے چیف منسٹر شری ۔ این چندرا بابو نائیڈو سے خصوصی مداخلت کی اپیل بھی کی ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ چیف منسٹر متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کرتے ہوئے موجودہ روڈ پلان کا ازسرنو جائزہ لینے اور درگاہ شریف کو محفوظ رکھنے کے لئے مناسب متبادل تلاش کرنے کی ہدایت دیں ۔مقامی عوام اور عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبے وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں ، تاہم تاریخی ، مذہبی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے ۔

انہیں امید ہے کہ چیف منسٹر کی مداخلت سے سڑک کی الائنمنٹ میں معمولی تبدیلی کرکے حضرت سید مالک حسین درگاہ شریف کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور اسپیڈ ایکسس روڈ کا منصوبہ بھی پایۂ تکمیل تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔عقیدت مندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل درگاہ کے تاریخی پس منظر ، مذہبی اہمیت اور عوامی جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے جامع غور و خوض کیا جائے ۔