At the ‘Faizan-e-Ghouse-e-Azam’ and ‘Faizan-e-Auliya-Allah’ (Hazrat Peeran-e-Peer) gathering in Amberpet

(اپنا ورنگل)
حیدرآباد :
این ایس پیالیس بینکٹ ہال ، روبرو کارخانہ زندہ طلسمات ، عنبر پیٹھ میں بہ صدارت اولادِ امجاد حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ ، حضرت مولانا سید شاہ رحمت محمد محمد الحسینی قبلہ المعروف بہ رحمت بابا بندہ نوازی چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل ، کل رآت جلسۂ فیضانِ غوثِ اعظم دستگیر رضی اللہ عنہ و فیضانِ اولیاء اللہ کا روح پرور انعقاد عمل میں آیا ، قبل ازیں ختم قرآن حکیم ، قصیدہ بردہ شریف ، محفل نعت شریف و منقبت کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا ۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا قاری محمد عبدالحمید رحمانی چشتی قادری بانی و صدر آل انڈیا اصلاحِ معاشرہ کمیٹی و چیف ایڈیٹر سماج سدھار نے کہا کہ ماہِ ربیع الثانی حضور پیرانِ پیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوثِ اعظم دستگیر رضی اللہ عنہ کی یاد اور ان کی تعلیمات سے وابستگی کا مہینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات انسان کو ایمان ، تقویٰ ، عبادت ، اصلاحِ معاشرہ اور حسنِ اخلاق کی طرف رہنمائی کرتی ہیں ۔
مولانا رحمانی نے اپنے خطاب میں نماز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حضور پیرانِ پیرؒ کی تعلیمات میں شریعت کی پابندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ انہوں نے بے نمازی کے انجام کے بارے میں سخت وعید کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ نماز پنجگانہ باجماعت کی پابندی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور اپنی اولاد کو بھی دینی تعلیمات سے وابستہ رکھیں
۔انہوں نے جناب سید عبدالجبار غوری مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جناب سید صابر غوری کے تمام فرزندان میں بڑے فرزند مرحوم جبار غوری صاحب دینداری ، نیک سیرتی اور اہلِ سنت والجماعت کے فروغ کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے علاقہ عنبر پیٹھ میں دینی و مذہبی خدمات انجام دیں اور حمدیہ ، نعتیہ اور منقبتی کلام پیش کرنے میں بھی خصوصی مہارت رکھتے تھے ۔
ان کی دینی خدمات اور خوش اخلاقی کو مدتوں یاد رکھا جائے گا ۔اس موقع پر بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی، مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ، جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع نے ’’نورِ محمدیؐ، خلقت سے ولادت تک‘‘ کے عنوان پر قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویؐ کی روشنی میں سیر حاصل خطاب کیا ۔
مولانا محمد محسن پاشاہ نقشبندی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کائنات کے مختلف معاملات میں انسانوں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ، کھانے پینے ، رہن سہن ، سواری اور دیگر امور میں بھی اختلافات سامنے آتے ہیں ، لیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر پوری دنیا کے انسان بلا اختلاف متفق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی زندگی کے مقصد ، آخرت اور موت کی حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے اعمال کی اصلاح کرنی چاہیئے ۔
انہوں نے نورِ محمدیؐ کے موضوع پر قرآن و حدیث کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے عشقِ رسول اکرم ﷺ ، اتباعِ سنت اور اولیائے کرام کی تعلیمات سے وابستگی کو مسلمانوں کے لئے باعثِ خیر و برکت اور نجات قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنی عملی زندگی کو شریعت و سنت کے مطابق ڈھالیں اور معاشرے میں امن وامان ، اخوت بھائ چارہ ، محبت اور دینی شعور کو فروغ دیں ۔
جلسہ میں حضرت مولانا عبداللہ بن سالم بایمین چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل ، مولانا حافظ قاضی محمد عبدالحسیب قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل کے علاوہ علماء کرام ، مشائخ عِطام اور دیگر معززین شہر حیدرآباد نے شرکت کی ۔ جلسہ میں اولیائے کرام کی تعلیمات کو عام کرنے ، نماز و عبادات کی پابندی اور اصلاحِ معاشرہ کے عزم کا اظہار کیا گیا ۔ بعدہُ تمام شرکاء کے لئے تناول تبرک کا خاص و عام اہتمام کیا گیا تھا – دینی مدارس کے طلباء نے بھی شرکت کی –
News Source : Mohsin Pasha

