The very students who taught him took their own lives; The brutal Murder of Principal Rupareddy

(اپنا ورنگل)
نلگنڈہ :
نلگنڈہ ضلع کے کونڈاملے پلی میں واقع ناگارجنہ ہائی اسکول کی پرنسپل روپاریڈی کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں پولیس نے اسی اسکول میں دسویں جماعت میں پڑھنے والے دو طلبہ ومشی اور نوین کو قاتلوں کے طور پر شناخت کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق دونوں نابالغ طلبہ گانجا اور دیگر نشہ آور اشیاء کے عادی تھے اور رقم حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنی ہی پرنسپل کو قتل کردیا۔بتایا جاتا ہے کہ واقعہ کے روز روپاریڈی اپنے بیگ میں دو لاکھ روپے لے کر اسکول سے گھر روانہ ہوئی تھیں۔
دونوں طلبہ نے انہیں رقم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ الزام ہے کہ وہ پرنسپل کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور اندر چھپ گئے۔ جیسے ہی روپاریڈی گھر میں داخل ہوئیں، دونوں نے چاقو سے ان پر 27 مرتبہ وار کرتے ہوئے انہیں بے رحمی سے قتل کردیا۔اس دوران روپاریڈی فون پر بات کررہی تھیں اور حملہ آوروں کو دیکھ کر انہوں نے ’’بابو‘‘ کہہ کر چیخ پکار کی۔
بتایا جاتا ہے کہ فون کی ریکارڈنگ سے بھی اس بات کا انکشاف ہوا ہے۔قتل کے بعد دونوں نابالغ طلبہ حیدرآباد فرار ہوگئے اور مبینہ طور پر رقم سے عیش و عشرت کرتے ہوئے پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں کو چند روز قبل ہی ان کے خراب رویے اور حرکات کی وجہ سے ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا۔اس واقعہ نے نابالغوں میں بڑھتی ہوئی مجرمانہ ذہنیت اور نشہ آور اشیاء کی لت پر تشویش پیدا کردی ہے۔
واقعہ کے بعد مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کے خلاف، ان کی عمر یا پس منظر سے قطع نظر، قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور اس بات کی بھی تحقیقات کی جائیں کہ ان کے پیچھے کون لوگ ہیں۔واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ اگر ملزمان کے نام ’’مستان‘‘ اور ’’رحمان‘‘ ہوتے تو شاید اب تک کئی لوگ اس معاملے پر اسٹیج پر آکر اپنی اپنی آواز بلند کرنے لگتے۔
NEws Source : M.F. Baig Riaz

