ٹی پی سی سی ڈسپلنری نوٹس پر کونڈا سریکھا کی وضاحت۔

Konda Surekha’s explanation to TPCC disciplinary notice on Konda Susmita’s statements

(اپنا ورنگل)

حیدرآباد:

ٹی پی سی سی ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے سلسلے میں ریاستی وزیر برائے جنگلات، ماحولیات، اوقاف و مذہبی امور کونڈا سریکھانے جمعرات کو اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین ملو روی کو خط روانہ کیا۔ وزیر نے اپنے خط میں کمیٹی کے نوٹس سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کی۔وزیر کونڈا سریکھا نے بتایا کہ 19 اگست کو ان کی سالگرہ کے موقع پر ریاست بھر میں ’کونڈا‘ خاندان کے حامیوں اور کانگریس پارٹی کے کارکنوں نے مختلف مقامات پر سالگرہ کی تقریبات کے ساتھ ساتھ کئی فلاحی سرگرمیاں بھی انجام دیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے آبائی علاقے گیسوکنڈہ سے ان کی بیٹی سسمیتا پٹیل کا خصوصی تعلق ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کانگریس پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے منعقدہ سالگرہ کی تقریب میں ان کی بیٹی کونڈا سسمیتا پٹیل نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔وزیر نے وضاحت کی کہ اس پروگرام میں ان کی بیٹی کی جانب سے دیے گئے بیانات مکمل طور پر ان کی ذاتی رائے ہیں۔ صرف خاندانی تعلق کی بنیاد پر ایک شخص کی ذاتی رائے کے لیے دوسرے شخص کو سیاسی طور پر ذمہ دار قرار دینا اور اسی بنیاد پر وضاحت طلب کرنا مناسب نہیں ہے۔

کونڈا سریکھا نے کہا کہ ان کی بیٹی کے بیانات کے لیے انہیں ذمہ دار ٹھہرانا  انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کی قیادت اور پارٹی کے ڈسپلنری قواعد کا وہ مکمل احترام کرتی ہیں۔وزیر نے ڈسپلنری کمیٹی سے احترام کے ساتھ اپیل کی کہ جمہوری اقدار اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے میں ان کا کوئی براہِ راست تعلق نہ ہونے کو تسلیم کیا جائے اور انہیں جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جائے۔

News Source : M.F. Baig Riaz