ریونت ریڈی کو سشمتا پٹیل کا کھلا چیلنج،ہمت ہے تو ابھی انتخابات میں آئیں،پَرکال کانگریس میں سیاسی طوفان۔

Sushmita Patel’s open challenge to Revanth Reddy, if you have the courage, come to the elections now, political storm in Congress

(اپنا ورنگل)

ورنگل:

 پَرکال حلقۂ اسمبلی کی کانگریس سیاست میں اچانک اہم سیاسی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ریاستی وزیر کونڈا سریکھا کی بیٹی سشمتا پٹیل نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں اگر کانگریس پارٹی انہیں ٹکٹ نہیں دیتی تو وہ پَرکال سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑیں گی۔ وزیر کونڈا سریکھا کی سالگرہ کے موقع پر پَرکال حلقہ میں منعقدہ تقریب کے دوران سشمتا پٹیل  نے تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔

سشمتا پٹیل نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی  وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کے طرزِ عمل میں تبدیلی آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کو وزیر اعلیٰ بنانے میں ان کے والد کونڈا مرلی نے بھی تعاون کیا تھا۔ ریونت ریڈی  ٹی پی سی سی صدر کی ذمہ داری سنبھالنے کے وقت بھی کونڈا مرلی ان کے ساتھ کھڑے رہے تھے۔

سشمتا پٹیل نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی نے کونڈا مرلی کو ایم ایل سی کا عہدہ دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ریونت ریڈی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ایم ایل سی کا عہدہ دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا تو پَرکال کی مائسما دیوی کے سامنے حلف اٹھا کر یہ بات کہیں۔

’’ہمت ہے تو ابھی انتخابات میں آئیں‘‘

پَرکال حلقہ کے کانگریس ٹکٹ کے معاملے پر بھی سشمتا پٹیل نے سخت آواز اٹھائی۔ انہوں نے سوال کیا کہ ریوری پرکاش ریڈی کو پَرکال کا ٹکٹ کیسے دیا جائے گا۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہے تو عہدے سے استعفیٰ دلا کر ابھی انتخابات میں آئیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے سوال کیا کہ وہ ان کے سیاسی حلقے میں آکر ان سے کیوں الجھ رہے ہیں۔

سشمتا پٹیل نے واضح کیا کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کی جانب سے انہیں موقع نہ دیے جانے کی صورت میں وہ پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں اور پَرکال سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑیں گی۔ ان کے اعلان کے بعد پَرکال حلقہ میں کانگریس کی اندرونی سیاست ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہے۔

’’اصلی کانگریس اور پیلی کانگریس کے درمیان مقابلہ‘‘

سشمتا پٹیل نے کہا کہ فی الحال کانگریس پارٹی میں ’’اصلی کانگریس‘‘ اور ’’پیلی کانگریس‘‘ کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لیے محنت کرنے والے قائدین اور کارکنوں کو مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی ہے۔ پَرکال حلقہ میں اپنے خاندان کے سیاسی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ انہیں سیاسی طور پر نظرانداز کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سشمتا پٹیل نے مزید الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے بھائی سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملات میں وہ اب تک صرف 200 کروڑ روپے سے متعلق امور کو ہی عوام کے سامنے لائی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے بیانات کا جواب دیا گیا تو وہ مزید معاملات عوام کے سامنے لائیں گی۔ انہوں نے ریونت ریڈی اور ان کے بھائیوں پر ریاست کو لوٹنے کے سنگین الزامات بھی عائد کئے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات تک ریونت ریڈی وزیر اعلیٰ کے عہدے پر رہیں گے یا نہیں، یہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ سشمتا پٹیل کے ان بیانات پر کانگریس پارٹی اور وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے حامیوں کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے، اس پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ وزیر کونڈا سریکھا کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک اہم سیاسی شخصیت کی جانب سے کھلے عام آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کے اعلان سے پَرکال کانگریس میں نئی سیاسی صف بندیوں کے امکانات پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔

News Source : M.F. Baig Riaz