قاضی پیٹ درگاہ عرس شریف کاشاندار آغاز، وزراءپونگولیٹی، اظہرالدین اور کونڈا سریکھا،رکن اسمبلی نائنی، پرکاش ریڈی،ناگراجو ودیگر کی شرکت۔

Kazipet Dargah Urs Sharif begins with grandeur, Ministers Ponguleti Srinivas Reddy, Azharuddin and Konda Surekha, MLAs Naini, Prakash Reddy, Nagaraju and others were attended

(اپنا ورنگل)

قاضی پیٹ :

حضرت سید شاہ افضل بیابانیؒ درگاہ قاضی پیٹ کے سالانہ عرس شریف  کاشاندار آغاز ہوا۔اس عرس کی تقریبات میں ریاستی ریونیو و ہاؤسنگ امور کے وزیر اور عرس کے انچارج وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی، اقلیتی بہبود کے وزیر اظہرالدین، ریاستی وزیر برائے جنگلات، ماحولیات، اوقاف و مذہبی امور کونڈا سریکھا، ورنگل مغربی کے رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی، ارکان اسمبلی پرکاش ریڈی اور کے آر ناگراجو، رکن قانون ساز کونسل بسواراجو ساریہ، تلنگانہ ویمن کانگریس کی صدر یرّابیلی سورنا سمیت دیگر نے شرکت کی اور درگاہ میں خصوصی دعائیں کیں۔

بعد ازاں مقامی طور پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قائدین نے قاضی پیٹ درگاہ کے عرس کی اہمیت، مذہبی ہم آہنگی، درگاہ کی ترقی اور زائرین کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی سمیت مختلف امور پر اظہار خیال کیا۔ وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ ہندو، مسلمان اور عیسائی کی تفریق کے بغیر تمام مذاہب کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر عرس کی تقریبات میں شرکت کررہے ہیں، جو انتہائی خوش آئند اور قابلِ تعریف بات ہے۔

قاضی پیٹ درگاہ میں نظر آنے والی مذہبی یکجہتی نے انہیں بے حد خوشی دی ہے۔وزیر نے عرس کی شاندار تقریب منعقد کرنے پر درگاہ کے سجادہ نشین و ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمین سید شاہ غلام افضل بیابانی المعروف خسرو پاشاہ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ آنے والے زائرین کے لیے ضروری بنیادی سہولتوں کے سلسلے میں خسرو پاشاہ صاحب اور منتظمین نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے ضلع کلکٹر اور میونسپل کمشنر کو مقامی رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے درگاہ کی ترقی کے لیے ضروری تجاویز جامع انداز میں تیار کرکے پیش کرنے کی ہدایت دی۔

وزیر نے کہا کہ قاضی پیٹ درگاہ تمام مذاہب سے وابستہ ایک نایاب روحانی مرکز ہے، اس لیے اس کی ترقی کے لیے جتنے بھی ضروری فنڈز درکار ہوں گے، حکومت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے یقین دلایا کہ آئندہ عرس تک درگاہ میں ضروری ترقیاتی کام اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی مکمل کرانے کی ذمہ داری وہ بطور انچارج وزیر خود لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے علم میں یہ معاملہ لاکر ضروری فنڈز منظور کرانے کے لیے کوشش کریں گے۔

اقلیتی بہبود کے وزیر اظہرالدین نے کہا کہ ملک کو اس وقت سب سے زیادہ محبت، اپنائیت، اتحاد اور بھائی چارے کی ضرورت ہے۔ عوام متحد ہوکر کام کریں گے تو ہی معاشرہ اور ملک ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی پیٹ درگاہ کے عرس میں تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کی واضح تصویر نظر آتی ہے۔ پنجاب سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے مقررین اور مہمانوں کی شرکت خوش آئند ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ذات پات اور مذہب کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد رہیں اور ایک دوسرے کے تعاون سے آگے بڑھیں۔

وزیر کونڈا سریکھا نے کہا کہ تلنگانہ مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی علامت ہے۔ جس طرح حیدرآباد میں مذہبی ہم آہنگی کا ماحول نظر آتا ہے، اسی طرح قاضی پیٹ درگاہ کے عرس میں بھی سیکڑوں برس سے ذات پات اور مذہب کی تفریق کے بغیر لوگ متحد ہوکر شرکت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم پہلے انسان ہیں، اس کے بعد ذات اور مذہب ہے۔‘‘ مذہب اور ذات کے نام پر اختلافات کو بڑھاوا دینے سے ریاست اور ملک کو ترقی کی راہ پر آگے لے جانا مشکل ہوگا۔ اس لیے اختلافات کو کوئی موقع دیے بغیر مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ساتھ سب کو مل جل کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے عرس کی شاندار تقریب کے انعقاد پر درگاہ کے سجادہ نشین خسرو پاشاہ صاحب اور منتظمین سے اظہارِ تشکر کیا۔

ورنگل مغربی کے رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی نے کہا کہ ہر سال قاضی پیٹ درگاہ کے عرس کو شاندار انداز میں منعقد کرنے کے لیے عوامی نمائندے، عہدیدار اور درگاہ کے منتظمین مل کر کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عرس سے ایک ماہ قبل ہی ضلع کلکٹر کی قیادت میں اجلاس منعقد کرکے درگاہ کے سجادہ نشین خسرو پاشاہ صاحب، منتظمین اور تمام متعلقہ محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے انتظامات مکمل کیے گئے۔

پانی کی سربراہی، بجلی، صفائی، ٹریفک اور سکیورٹی کے انتظامات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ عرس کے موقع پر درگاہ آنے والے عقیدت مندوں کے لیے تقریباً 40 لاکھ روپے کی لاگت سے پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں سے قاضی پیٹ درگاہ آنے والے زائرین کے لیے مفت کھانے کا بھی انتظام کیا جارہا ہے۔رکن اسمبلی نے بتایا کہ درگاہ کی ترقی کے سلسلے میں تقریباً ڈیڑھ سال قبل حکومت کو متعدد تجاویز پیش کی گئی تھیں اور انہیں چیف منسٹر ریونت ریڈی کے علم میں بھی لایا گیا ہے۔ تقریباً تمام تجاویز آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہیں۔ ان پر عمل درآمد ہونے کے بعد درگاہ آنے والے زائرین کو مزید بہتر سہولتیں دستیاب ہوں گی۔

جلسے میں قائدین نے کہا کہ قاضی پیٹ درگاہ کا عرس صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ تمام مذاہب کے اتحاد، انسانیت اور بھائی چارے کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ کی ترقی کے لیے حکومت مکمل تعاون فراہم کرے گی اور زائرین کے لیے ضروری بنیادی سہولتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے سب مل کر کام کریں گے۔ اس موقع پر درگاہ کے سجادہ نشین خسرو پاشاہ صاحب، منتظمین، ضلع کلکٹر، پولیس کمشنر، مختلف محکموں کے عہدیدار، عوامی نمائندے، کانگریس پارٹی کے قائدین اور کارکنان موجود تھے۔

News Source : M.F. Baig Riaz