درگاہ کے نذرانوں پر مبینہ ڈاکہ؟ 60 لاکھ کے بال غائب کرنے والے کو دوبارہ ٹینڈر دینے کا الزام

Alleged robbery of dargah offerings? Allegation of awarding tender again to the person who disappeared with hair worth 6 million

(اپنا ورنگل)

ورنگل :

ورنگل ضلع کے پَروتھ گیری منڈل کے انارم شریف گاؤں میں واقع حضرت یعقوب شاہ ولیؒ بابا درگاہ میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ دو سال قبل تقریباً 60 لاکھ روپے مالیت کے عقیدت مندوں کے چڑھائے گئے بال غائب کرنے والے شخص کو ہی ریاستی وقف بورڈ کے حکام نے دوبارہ تین سال کے لیے ٹینڈر دے دیا، جس پر مقامی سطح پر شدید اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔معلومات کے مطابق ضابطوں کے تحت درگاہ میں جمع ہونے والے بالوں کی نیلامی کا ٹینڈر حیدرآباد میں واقع ریاستی وقف بورڈ کے دفتر کے ذریعے کھلے عام جاری کیا جانا چاہیے۔

تاہم الزام ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے انارم گاؤں کے ایک شخص نے بغیر کسی سرکاری ٹینڈر کے درگاہ سے بال جمع کیے، جس کے نتیجے میں تقریباً 60 لاکھ روپے کی سرکاری آمدنی کا نقصان ہوا۔اس معاملے پر ورنگل ضلع کلکٹر ڈاکٹر ستیہ شاردا کی ہدایت پر ضلع اقلیتی بہبود  افسر نے تحقیقات کیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں درگاہ میں بڑے پیمانے پر مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے رپورٹ ضلع کلکٹر اور ریاستی وقف بورڈ کو بھیجی گئی۔ ضلع وقف بورڈ کے انسپکٹر ریاض اور درگاہ کے سپرنٹنڈنٹ ممتاز حسین نے بھی تحریری طور پر وقف بورڈ کے سی ای او کو اطلاع دی کہ مذکورہ شخص نے دو برس تک غیر قانونی طور پر درگاہ سے بال منتقل کیے۔

واضح رپورٹوں اور شواہد کے باوجود متعلقہ شخص کے خلاف کارروائی نہ ہونے اور اس کی سرپرستی کیے جانے پر مختلف حلقوں میں تنقید کی جا رہی ہے۔یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ اسی شخص کو، جس پر بدعنوانی کے الزامات ہیں، رواں سال سے مزید تین برس کے لیے بالوں کا ٹینڈر دے دیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے پیچھے بڑے پیمانے پر رشوت کا لین دین ہوا ہے۔ اقلیتی طبقے کے افراد کا کہنا ہے کہ کھلی نیلامی کے بغیر اور ضابطوں کے خلاف خفیہ طور پر ٹینڈر جاری کیا گیا، جس سے وقف بورڈ کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

اس معاملے پر انارم گاؤں کے عوام اور مسلم اقلیتی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ورنگل ضلع کلکٹر، وقف بورڈ کے چیئرمین، سی ای او اور مقامی وردھنا پیٹ کے ایم ایل اے ناگا راجو فوری طور پر مداخلت کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مبینہ طور پر غائب کیے گئے 60 لاکھ روپے کی وصولی کی جائے، ضابطوں کے خلاف جاری کیا گیا نیا ٹینڈر فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور شفاف طریقے سے کھلی نیلامی کے ذریعے نیا ٹینڈر جاری کیا جائے۔ بصورت دیگر بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔

News Source : M.F. Baig Riaz