مدرسہ دارالعلوم محبوبیہ مہیشورم نرسم پیٹ میں عظیم الشان جشن حفظ القرآن کا انعقاد۔

Quran memorization celebration was held at Madersa Darul Uloom Mahboobia , Maheshwaram, Narsampet

(اپنا ورنگل)

نرسم پیٹ:

ورنگل: مدرسہ دارالعلوم محبوبیہ مہیشورم نرسم پیٹ ضلع ورنگل میں جشن حفظ القرآن کا پروقار جلسہ زیر صدارت حافظ و قاری محمد نعمان اعظمی، چیرمین مدرسہ و نائب گورنمنٹ قاضی نرسم پیٹ تعلقہ منعقد ہوا۔ جلسے کے مہمان خصوصی روزنامہ سیاست و سیاست ٹی وی ورنگل کے محترم محمد اسماعیل ذبیح صاحب تھے۔ اس موقع پر مدرسہ کے صدر محترم محمد یوسف صاحب، استاد حافظ و قاری محمد عرفان صاحب رحمانی، مشیر شیخ جاید صاحب، نائب صدر شکیل صاحب نیو مبارک رائس مل، رکن شوریٰ محمد سراج صاحب، سید امجد صاحب، محمد صمدانی صاحب، اور امام و خطیب جامع مسجد نرسم پیٹ مولانا محبوب الرحمن صاحب قاسمی نے شرکت کی۔

مولانا محبوب الرحمن قاسمی نے حافظ صاحب کو آخری تلاوت ختم قرآن کرائی۔ دیگر شرکاء میں مولانا مرشید صاحب، مولانا تحسین صاحب سابق استاد، حافظ زبیر احمد صاحب لکھناپلی، محترم برہان الدین سلیم صاحب ہنمکنڈہ، ڈاکٹر محمد عفان ذبیح صاحب، انجینئر محمد عدنان ذبیح صاحب اور معززین شہر شامل تھے۔ ناظم و مہتمم حافظ و قاری مولانا محمد نعمان اعظمی نے مدرسے کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ مدرسہ دارالعلوم محبوبیہ مہیشورم نرسم پیٹ ورنگل سے تقریباً 35 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں قائم ہے۔ اس کا مقصد دیہی علاقے کے غریب مسلمانوں تک دین اسلام پہنچانا اور نوجوان نسل کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے۔

یہ ادارہ ورنگل کا قدیم عربی تعلیمی ادارہ ہے جو گزشتہ 30 سال سے دینی، ملی، سماجی و فلاحی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مدرسہ کے بانی الحاج حضرت مولانا محمد اکبر رحمانیؒ نے 1996ء میں بڑی محنت و مشقت سے اس ادارے کی بنیاد رکھی۔ مولانا مرحوم کا انتقال جولائی 2017ء میں ہوا۔ الحمدللہ اب تک 350 سے زائد طلبہ یہاں سے حفظ القرآن مکمل کر چکے ہیں۔

فی الوقت 75 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا بھی نظم موجود ہے۔ مولانا نعمان اعظمی نے بتایا کہ مدرسہ دو ایکڑ ذاتی زمین پر قائم ہے۔ تاہم کمپاؤنڈ وال اور دیگر تعمیرات کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے اہل خیر حضرات سے پرزور اپیل کی کہ اس دینی ادارے کا بھرپور تعاون فرمائیں۔ طلبہ آپ کے حق میں دعا گو رہیں گے۔ حافظ و قاری محمد نعمان اعظمی، چیرمین مدرسہ سے ربط پیدا کرسکتے ہیں۔

News Source : Ismail Zabi