Public awareness is the most effective weapon to prevent cyber crime – District Collector CH Priyanka, District SP Dr. Vineet

(اپنا ورنگل)
نارائن پیٹ:
ضلع کلکٹر سی ایچ پریانکا اور ضلع ایس پی ڈاکٹر ونیت (IPS) نے کہا کہ سائبر جرائم ہونے کے بعد کارروائی کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے ہی عوام میں وسیع پیمانے پر بیداری پیدا کی جائے تاکہ ایسے جرائم کو روکا جا سکے۔”سرکشا کا ترنگا – سائبر جاگرت دیوس” کے موقع پر ضلع پولیس کے ڈسٹرکٹ سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (D4C) کے زیر اہتمام ابھی نندن گارڈنز، نارائن پیٹ میں ایک بڑے سائبر آگاہی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ضلع کلکٹر اور ایس پی نے شرکت کرکے خطاب کیا۔
اجلاس سے قبل سائبر جرائم کے متاثرین نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح دھوکہ دہی کا شکار ہوئے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی کو بھی OTP نہ بتائیں، غیر ضروری لنکس نہ کھولیں، جلدی زیادہ منافع کے لالچ میں نہ آئیں اور کسی کو بھی رقم بھیجنے سے پہلے اچھی طرح تصدیق کریں۔ضلع کلکٹر نے کہا کہ ہر گاؤں میں سائبر تحفظ سے متعلق آگاہی پیدا کرنا عوامی نمائندوں کی سماجی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تمام سرپنچوں کو ہدایت دی کہ گرام پنچایت اجلاسوں میں سائبر جرائم کو مستقل ایجنڈا بنایا جائے۔
اسی طرح خواتین کی تنظیموں، وی اوز اور سیلف ہیلپ گروپس کے اجلاسوں میں بھی سائبر تحفظ پر لازماً گفتگو کی جائے۔انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ یہاں حاصل کی گئی معلومات اپنے گھر والوں، خاص طور پر والدین تک پہنچائیں تاکہ ہر خاندان سائبر جرائم سے محفوظ رہ سکے۔کلکٹر نے اپنی ملازمت کے دوران پیش آنے والے کئی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "ڈیجیٹل اریسٹ” کے نام پر ایک ریٹائرڈ استاد سے 75 لاکھ روپے ہتھیا لیے گئے۔
آندھرا پردیش اور تلنگانہ پولیس کی مشترکہ کارروائی کے باوجود رقم ملک بھر کے سینکڑوں بینک کھاتوں میں منتقل ہونے کی وجہ سے پوری رقم واپس لانا مشکل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ سائبر جرائم کے پیچھے مضبوط نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں، اس لیے ہر شخص کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سائبر دھوکہ دہی کا شکار ہو جائے تو خوف یا شرمندگی کی وجہ سے شکایت کرنے میں تاخیر نہ کرے بلکہ فوراً اپنے اہل خانہ اور پولیس کو اطلاع دے۔
بروقت شکایت سے رقم واپس ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔کلکٹر نے سوشل میڈیا، موبائل ایپس، جعلی اشتہارات، فری گفٹس، لکی ڈراز اور فوری کیش آفرز کے نام پر آنے والے پیغامات سے ہوشیار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا میں کوئی بھی مفت میں پیسہ نہیں دیتا” اور اس شعور کو ہر گاؤں اور ہر گھر تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ضلع ایس پی ڈاکٹر ونیت نے کہا کہ سائبر جرائم صرف مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ کئی بار متاثرین کی پوری زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سائبر مجرم خوف اور لالچ کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بناتے ہیں۔ جعلی ملازمتوں کے لنکس بھیجنا، تصاویر کو مارفنگ کرکے بلیک میل کرنا اور بٹ کوائن کے ذریعے رقم کا مطالبہ کرنا ان کے عام طریقے ہیں۔ایس پی نے بتایا کہ کوتہ گوڑیم میں اپنی تعیناتی کے دوران ایک قبائلی نوجوان خاتون ملازمت کے لیے آن لائن درخواست دینے کے بعد سائبر مجرموں کے جال میں پھنس گئی تھی۔ اس کی تصاویر مارف کرکے خاندان والوں کو بھیجنے کی دھمکی دے کر رقم طلب کی گئی، مگر بروقت پولیس کارروائی سے اسے بچا لیا گیا۔انہوں نے مدھاپور میں پیش آنے والے ایک بڑے سائبر فراڈ کا بھی ذکر کیا، جس میں ایک مشہور فلمی اداکار کے نام پر OTP حاصل کرکے کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ افراد بھی اگر ایک لمحہ غفلت کریں تو سائبر جرائم کا شکار ہو سکتے ہیں۔ایس پی نے نارائن پیٹ ضلع کے ایک ایسے خاندان کا بھی حوالہ دیا جس کے بینک اکاؤنٹ سے کسان بیمہ اور نجی بیمہ کی رقم سائبر مجرموں نے چرا لی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات خاندانوں کے مستقبل کو شدید متاثر کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں عام جرائم کے مقابلے میں سائبر جرائم سے ہونے والا مالی نقصان کہیں زیادہ ہے، اس لیے ہر شہری کو چوکس رہنا چاہیے۔
انہوں نے آن لائن گیمنگ کی بڑھتی ہوئی لت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجرم نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ "بلیو وہیل” جیسے خطرناک گیمز کی مثال دیتے ہوئے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کے موبائل استعمال پر نظر رکھیں۔ایس پی نے کہا: "آج کل چور گھر کے دروازے توڑ کر نہیں آتے بلکہ ہمارے موبائل فون کے ذریعے ہماری زندگی میں داخل ہوتے ہیں، اس لیے ہر کال، ہر لنک اور ہر پیغام پر احتیاط ضروری ہے۔”انہوں نے کہا کہ سائبر دھوکہ دہی کی صورت میں فوری طور پر 1930 ہیلپ لائن پر کال کریں یا قریبی پولیس اسٹیشن سے رابطہ کریں۔
پولیس متاثرین کی معلومات کو خفیہ رکھتے ہوئے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ "من اُورو – من پولیس” پروگرام کے تحت دیہات میں پولیس معلوماتی دیواریں اور شکایتی بکس نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ مقدمات کی پیش رفت، ہیلپ لائن نمبرز اور سائبر تحفظ سے متعلق معلومات عوام کو مقامی سطح پر دستیاب ہوں۔بعد ازاں "سرکشا کا ترنگا” اور سائبر آگاہی وال پوسٹرز کی رونمائی کی گئی اور تمام شرکاء نے سائبر جرائم سے محفوظ رہنے اور دوسروں کو بھی بیدار کرنے کا عہد کیا۔
اس پروگرام میں ڈی ایس پیز مہیش، نلّپو لنگیا، ڈی ایم ایچ او جئے چندر موہن، سی آئیز شیوا شنکر، رام لال، بھگونت ریڈی، سعیدولو، ایس آئی وینکٹیشورلو، ضلع پولیس کے افسران، عوامی نمائندے، سرپنچ، سرکاری افسران، اساتذہ، آشا کارکنان، اے این ایمز، طلبہ، خواتین تنظیموں کے نمائندے اور دیہاتیوں سمیت تقریباً پانچ ہزار افراد نے شرکت کی۔
News Source : Mohd. Ashfaq

