اولیاءِ اللہ کی عظمت و فیضان پر مولانا محمد محسن پاشاہ قادری کا مدلل خطاب، حضرت خواجہ میاں چشتی قادریؒ کا 15واں عرس اختتام پذیر.

Moulana Mohammad Mohsin Pasha Qadri delivers a well-reasoned address on the greatness and spiritual grace of the Friends of Allah (Awliya-Allah); the 15th Urs of Hazrat Khwaja Miyan Chishti Qadri (RA) concludes

(اپنا ورنگل)

محبوب نگر :

مجذوبِ محبوب نگر حضرت سید محمد خواجہ میاں صاحب چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے 15 / ویں سالانہ سہ روزہ عرس شریف کی مناسبت سے کل رآت مسجد صوفیہ ، حبیب نگر ، ڈسلیری محبوب نگر میں روح پرور و پُر وقار جلسۂ فیضانِ اولیاءِ اللہ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا ۔ جلسہ کی نگرانی حضرت مولانا صوفی شاہ محمد عبدالعزیز معدومؔ چشتی قادری سجادہ نشین و متولی حضرت خواجہ میاں صاحبؒ نے کی اور قبل نماز مغرب قدیم دائرہء حبیب نگر میں مراسمِ عرس شریف بھی انجام دیئے اور صلوۃ وسلام بھی پیش کیا ۔

جلسہء فیضان اولیاءاللہ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت سیوا رتن ایوارڈ یافتہ اسدالعلماء تنویرِ صحافت مولانا محمد محسن پاشاہ انصاری قادری نقشبندی مجددی مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ و جنرل سیکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر ضلع نے کہا کہ اولیاءِ اللہ کا حقیقی مقام و مرتبہ قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنا چاہیئے ، محض کرامات یا ظاہری شہرت ولایت کا معیار نہیں ۔

انہوں نے قرآنِ حکیم کی آیتِ مبارکہ ﴿ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَآءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ ﴾ ( یونس: 62-63 ) پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اولیاء اللہ کی بنیادی پہچان ایمان اور تقویٰ قرار دیا ہے ؛ یعنی جو بندگانِ خدا ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا وہ اللہ کے اولیاء میں شامل ہیں ۔ قرآن مجید میں ولایت کی یہ بنیادی تعریف کسی مخصوص پیشے ، خاندان یا ظاہری دعوے سے وابستہ نہیں کی گئی چونکہ فرائض و واجبات کے علاوہ جب بندہء مومن کثرت نوافل تلاوت قرآن حکیم ، ذکر و اذکار اور درود شریف کی زیادتی سے قرب الہیہ کا ذریعہ بنتے ہیں ۔

مولانا محمد محسن پاشاہ قادری نے حدیثِ قدسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحیح بخاری میں حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’مَنْ عَادَىٰ لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ‘‘، یعنی جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے ، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ فرماتا ہوں ۔ اسی حدیث میں فرائض اور نوافل کے ذریعے بندے کے قربِ الٰہی کا ذکر بھی آتا ہے ۔

اُنہوں نے وضاحت کی کہ اولیاءِ اللہ کی ’’جملہ اقسام‘‘ تصوف کی کتب میں چھتیس ہزار بیان کی گئی ہیں قطب ، ابدال ، غوث و خواجہ ، قلندر ، وتد ، رجز ، ولی ، مجذوب ، سالک مجذوب ودیگر ہیں کو ایک ہی عدد میں محدود کرنا درست نہیں ۔ قرآن شریف و احادیث مبارکہ میں ولایت کا اصل معیار ایمان ، تقویٰ ، اطاعتِ الٰہی اور قربِ خداوندی ہے ، جبکہ اہلِ تصوف نے روحانی مراتب و وظائف کی وضاحت کے لئے مختلف اصطلاحات استعمال کی ہیں ۔

انہوں نے کتبِ تصوف کے حوالے سے بیان کیا کہ صوفیانہ روایت میں اقطاب ، غوث ، اوتاد ، ابدال ، اخیار ، ابرار ، نقباء ، نجباء ، عمد ، مکتومان اور مفردان وغیرہ جیسے اصطلاحی طبقات کا ذکر خاص ملتا ہے ۔ بعض روایات و صوفیانہ مصادر میں ان مراتب کو مخصوص تعداد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، تاہم یہ بات ملحوظ رہنی چاہیئے کہ یہ تفصیلی درجہ بندی قرآنِ کریم کی بیان کردہ بنیادی تعریفِ ولایت کے مساوی نہیں بلکہ بعد کی صوفیانہ اصطلاحات اور روحانی مراتب کی تشریح ہے ۔

رسالۂ قشیریہ جیسی کلاسیکی کتبِ تصوف میں بھی اولیاء اللہ ، صوفیہ اور اہلِ سلوک کے احوال و مقامات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ؛ اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی ادارہ تحقیقاتِ اسلامی سے شائع ہو چکا ہے ۔اسدالعلماء نے مزید کہا کہ غوث ، قطب ، ابدال یا دیگر روحانی اصطلاحات کو سمجھنے کے لئے مستند کتبِ تصوف کے پورے سیاق و سباق کا مطالعہ کرنا ملت اسلامیہ کے لئے ضروری ہے ۔

کسی بزرگ کی ولایت کا اصل شرف اللہ تعالیٰ کی بندگی ، شریعت کی پابندی ، تقویٰ ، حسنِ اخلاق ، محبتِ رسول اکرم ﷺ اور خدمتِ خلق سے ظاہر ہوتا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اولیاءِ کرام نے اپنی پوری زندگی اتباعِ رسول اکرم ﷺ ، ذکرِ الٰہی ، اصلاحِ نفس ، تعلیمِ دین اور خدمتِ انسانیت کے لئے وقف کی۔ اسی لئے ان کی سیرت و تعلیمات امت کے لئے روحانی اصلاح اور اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ بنتی ہیں ۔

خطاب میں حضرت سید محمد خواجہ میاں چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی دینی و روحانی خدمات اور کرامات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مولانا محسن پاشاہ نقشبندی نے کہا کہ اولیاءِ صالحین کی یاد منانے کا حقیقی مقصد صرف مراسم کی ادائیگی نہیں بلکہ ان کے پیغامِ محبت ، اصلاح نفس ، ذکرِ الٰہی ، اتباعِ شریعت اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے ۔اس موقع پر سجادہ نشین و متولی حضرت مولانا صوفی شاہ محمد عبدالعزیز معدومؔ چشتی قادری بانی و صدر دارالعلوم صوفیہ نے مراسمِ عرس شریف انجام دیئے اور جلسۂ فیضانِ اولیاءِ اللہ کی نگرانی فرمائی ۔ علماء کرام ، مشائخ عِظام ، حفاظ ، طلبہ ، عقیدت مندوں اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے ہوئے حضرت خواجہ میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بھرور خراجِ عقیدت پیش کیا اور فاتحہ خوانی و دعا میں شرکت کی ۔

( القرآن : سورۃ یونس ، 10:62-64 — اولیاءِ اللہ کی بنیادی صفات : ایمان و تقویٰ ۔صحیح البخاری : حدیثِ قدسی ، ولایت اور قربِ الٰہی کا بیان؛ فرائض و نوافل کے ذریعے اولیاء اللہ خداوندقدوس کی محبت کامل کا حصول کرلیتے ہیں ۔ جلسہ کا آغاز مولانا حافظ سالک رضا صدر مدرس دارالعلوم صوفیہ کی قراءت کلام پاک سے ہوا – مولانا مشاھد حسین رضوی قادری نائب صدر مدرسہء دارالعلوم صوفیہ نے نعت شریف پیش کی – حضرت شاہ صوفی محمد عبدالعزیز معدومؔ چشتی قادری نے منقبتی کلام پیش کیا اور آخر میں صلوۃ و سلام پیش کیا ، اسدالعلماء مولانا محسن پاشاہ نقشبندی نے دعا کی –