The daughter of a poor family showed great determination and courage, Firdous set an example for the students of minority residential schools.
سابق وزیر ہریش راؤ اور رکن اسمبلی مانک راؤ نے تہنیت پیش کی۔
(اپنا ورنگل)
ظہیرآباد :
غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی فردوس نے محنت، لگن اور عزمِ صمیم کی بدولت ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول ظہیرآباد الگول گرلز-1 (TMRIES) بُچنلی کی اس ہونہار طالبہ نے نیٹ (NEET) امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سُرابھی میڈیکل کالج، سدی پیٹ میں ایم بی بی ایس کی مفت نشست حاصل کی ہے۔اس شاندار کامیابی پر سابق وزیر و رکن اسمبلی سدی پیٹ ہریش راؤ اور رکن اسمبلی ظہیرآباد کوننٹی مانک راؤ نے فردوس کو تہنیت پیش کی اور طالبہ کے والدین، اساتذہ اور اسکول کے عہدیداروں کی کاوشوں کی بھی بھرپور ستائش کی۔اس موقع پر ہریش راؤ نے یاد دلایا کہ 2021ء میں بُچنلی اسکول کے افتتاح کے موقع پر فردوس سے پوچھا تھا کہ آگے کیا بنو گی؟ اُس نے پُرعزم لہجے میں کہا تھا ڈاکٹر! آج وہ خواب سچ ہو گیا ہے۔ یہ محنت، اعتماد اور حوصلے کی جیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظہیرآباد کے اسی اسکول سے 8 طالبات اور الگول اقلیتی گروکلم سے 7 طالبات نے بھی ایم بی بی ایس نشستیں حاصل کی ہیں، جو ریاست کے تعلیمی انقلاب کی واضح مثال ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ یہ کامیابیاں سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کی بصیرت افروز قیادت کا ثمر ہیں، جنہوں نے تلنگانہ میں تعلیمی نظام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں گروکلم اسکولوں کی تعداد 290 سے بڑھ کر 1020 ہو چکی ہے، جبکہ اقلیتی اقامتی اسکول 2 سے بڑھ کر 204 تک پہنچ گئے ہیں۔ ان اداروں نے غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں طلبہ کو ڈاکٹر، انجینئر اور سرکاری افسر بننے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ہریش راؤ نے طلبہ سے اپیل کی کہ کامیابی کے بعد وہ اپنے گاؤں، اسکول اور سماج کو یاد رکھیں اور جنہوں نے انہیں آگے بڑھایا، ۔ واضح رہے کہ فردوس کی یہ کامیابی نہ صرف اقلیتی اقامتی اسکولوں کی طالبات کے لیے حوصلہ افزائی کا چراغ ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو خواب حقیقت میں بدل جاتے ہیں
اس موقع پر جھرہ سنگم منڈل پارٹی صدر وینکٹیشم، بی آر ایس گرام صدر ناگنا اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔
News Source : Mohd. Shujauddin


