There is strong displeasure in the Muslim community over the appointment of Hindu members in the Madhya Pradesh Waqf Board
(اپنا ورنگل)
مدھیہ پردیش:
مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں ہندو اراکین کی تقرری کو لے کر مسلم سماج میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے موہن حکومت کے اس فیصلے کو براہِ راست سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔
عارف مسعود نے حکومت کے فیصلے پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب وقف سے متعلق معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے تو ریاستی حکومت نے اپنی مرضی سے بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تعداد کیسے بڑھا دی؟
دوسری جانب مسلم اسکالرز نے بھی حکومت کی نیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اس فیصلے کو ’’فرقہ وارانہ‘‘ قرار دیا ہے۔ عمران کھوکھر نے سوال کیا کہ جن لوگوں کو اسلام اور وقف کے بنیادی معاملات کی معلومات نہیں، انہیں وقف بورڈ میں کیوں شامل کیا جا رہا ہے؟
انہوں نے سوال اٹھایا، ’’کیا کبھی کسی مسلمان کو رام مندر یا مہاکال کمیٹی کا رکن بنایا جائے گا؟ پھر وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تقرری کیوں؟‘‘مسلم فریق کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ قدم اصل مسائل سے توجہ ہٹانے اور مسلمانوں کے مذہبی و انتظامی معاملات میں براہِ راست مداخلت کی کوشش ہے۔
مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں ہندو اراکین کی تقرری کے بعد اب یہ معاملہ سیاسی اور قانونی تنازع کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ عارف مسعود نے واضح کر دیا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔
News Source : Agency

