The Telangana Urdu Academy, established for the development and promotion of the Urdu language, became an orphan as the financial year neared its end, but not a single rupee was released this year
(اپنا ورنگل)
حیدرآباد :
اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لئے حکومت نے ہر ریاست میں اردو اکیڈیمی کا قیام عمل میں لایا ہے جس کو ریاستی حکومت کی نگرانی میں چلایا جاتا ہے۔ یعنی مختلف پروگرامس کے انعقاد کے ذریعہ اردو زبان کے استحکام کی کوشش کی جاتی ہے ۔صدر تلنگانہ اردو تحریک سعداللہ خان سبیل نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت نے اردو اکیڈیمی کو سالانہ 12کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے لیکن کانگریس کے دور اقتدار میں یہ صرف کانوں کو خوش کرنے والا ثابت ہوا ہے۔
ان دنوں تلنگانہ اردو اکیڈیمی اردو زبان کی طرح بالکل یتیم ہوگئی ہے۔معاشی سال ختم ہونے میں صرف ایک مہنہ باقی ہے اور تاحال تلنگانہ اردو اکیڈیمی کو ایک روپئے بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ کتابوں کی اشاعت ، صحافیوں کو مالی اعانت ، چھوٹے اخبارات کی امداد ، اردو پروگراموں کے انعقاد کے لئے مدد جیسے تمام پروگرام ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔ اردو صحافی ، ادیب اور شعراء حج ہاوز نامپلی حیدرآباد میں واقع اردو اکیڈیمی کے صدر دفتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکے ہیں۔
ذرایع کے مطابق اردو اکیڈیمی کا عملہ بھی پریشان ہے کہ حکومت تلنگانہ کے محکمہ فائنانس سے ایک بل بھی پاس نہیں ہورہاہے۔ صدر تلنگانہ اردو تحریک نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے موجودہ صدر طاہر بن حمدان کو اردو زبان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔صدر تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت بالخصوص وزیر اعلی ریونت ریڈی تک اس مسلے کو پہچائیں لیکن وہ تو اکیڈیمی کے دفتر آنے کی زحمت ہی نہیں کرتے جب کہ حکومت کی جانب سے انہیں ماہانہ ایک لاکھ پچیانوے ہزار روپئے تنخواہ دی جاتی ہے ۔
سعداللہ خان سبیل نے یہ بھی کہا کہ جب صدر اردو اکیڈیمی کام ہی نہیں کرتے تو نہیں تنخواہ کس بات کی لیتے ہیں اگر وہ اردو کی ترقی کے اقدامات نہیں کرسکتے اور حکومت سے نمائندگی کرکے بجٹ کا مسلہ حل نہیں کرواسکتے تو انہیں فوری اپنے عہدے سے مستفی ہوجانا چاہئے۔
News Source : Agency

