شبِ معراج: ایمان و عرفان کی معراج، عبدیت کا کمال اور قربِ الٰہی کا بے مثال سفر, نامِ مضمون نگار: حافظ و قاری مولانا محمد رفیق پٹیل نظامی۔

Night of Ascension: The Ascension of Faith and Mysticism, the Perfection of Obedience, and the Unparalleled Journey of Divine Closeness. Author: Hafiz and Qari Maulana Muhammad Rafiq Patel Nizami

(اپنا ورنگل)

شبِ معراج تاریخِ انسانی کی وہ عظیم، نورانی اور بے مثال رات ہے جس میں ربِ کائنات نے اپنے محبوب، سرورِ دو عالم، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو وہ مقام و مرتبہ عطا فرمایا جو کسی نبی، کسی رسول بلکہ کسی بھی مخلوق کو نصیب نہیں ہوا۔ یہ رات صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان کی روح، عشقِ رسول ﷺ کی جان، اور بندگی و عبدیت کی معراج ہے۔معراج کا واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ جب بندہ اخلاص، تقویٰ اور کامل اطاعت کے ساتھ رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو زمین کی حدیں ٹوٹ جاتی ہیں، آسمان راستہ بن جاتے ہیں اور قربِ الٰہی اس کا مقدر بن جاتا ہے۔

واقعۂ معراج کا پس منظرسیرتِ نبوی ﷺ کا وہ دور جب آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں شدید مصائب، طائف کی اذیتیں، محبوب چچا حضرت ابو طالبؓ اور غمگسار زوجۂ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی جدائی کا صدمہ برداشت فرمایا، اسی دور کو عامُ الحزن کہا جاتا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو معراج کا شرف عطا فرما کر تسلی، دلجوئی اور رفعتِ مقام سے نوازا۔اسراء: مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک شبِ معراج کا پہلا مرحلہ اسراء ہے، جس میں نبی کریم ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جایا گیا۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"سُبْحٰنَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَیٰ” یہاں لفظ عبدہٖ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو عبدیت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز فرمایا۔معراج: آسمانوں کی سیر اور قربِ خاص مسجدِ اقصیٰ سے نبی کریم ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔ ہر آسمان پر مختلف انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات ہوئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ آپ ﷺ تمام انبیاء کے امام، سردار اور خاتم ہیں۔ پھر سدرة المنتہیٰ کا مقام آیا، جہاں جبرئیل امینؑ بھی رک گئے اور محبوبِ خدا ﷺ تنہا ربِ ذوالجلال کے حضور پہنچے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں قاب قوسین او ادنیٰ کی کیفیت طاری ہوئی، جہاں الفاظ بھی خاموش ہو جاتے ہیں اور عقل حیران رہ جاتی ہے۔

نماز: معراج کا تحفہ
شبِ معراج کا سب سے عظیم تحفہ نماز ہے۔ پچاس نمازیں فرض ہوئیں، مگر رحمتِ الٰہی کے باعث امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے پانچ وقت کی نماز مقرر ہوئی، جس کا اجر پچاس کے برابر ہے۔ نماز دراصل ہر مومن کے لیے روحانی معراج ہے، جو اسے دن میں پانچ مرتبہ رب کے قریب کرتی ہے۔دیدارِ الٰہی اور ایمان کا امتحان معراج کا واقعہ ایمان کا کڑا امتحان بھی ہے۔ جنہوں نے دل سے مانا وہ صدیق کہلائے، جیسے حضرت ابو بکر صدیقؓ، اور جنہوں نے انکار کیا وہ محروم رہ گئے۔

معراج ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان صرف عقل کا نام نہیں بلکہ تصدیقِ قلب کا نام ہے۔ شبِ معراج کا پیغام شبِ معراج ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ: اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو مایوسی میں نہیں چھوڑتا مشکلات کے بعد آسانی آتی ہے نماز کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا جائے عشقِ رسول ﷺ کو ایمان کی بنیاد بنایا جائے عبدیت اختیار کی جائے تو رفعتیں مقدر بنتی ہیں_ شبِ معراج نور، رحمت، حکمت اور محبت کی رات ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم سنتِ رسول ﷺ کو اپنائیں، نماز سے رشتہ جوڑیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہماری زندگی بھی معراج کی طرف گامزن ہو سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ معراج کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے، سچی عبادت اور کامل اتباعِ رسول ﷺ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

News Source : M.A. Samad Manju wala