عوام پوچھ رہی ہیں — جیتے گا کون؟عوام کا جوش مہم سے بڑھ کر،جوبلی ہلز کی نشست پر سب کی نظریں، کس کے سر سجے گا کامیابی کا تاج؟

 People are asking – who will win?  The enthusiasm of the people is greater than the campaign,

all eyes are on the Jubilee Hills seat, on whose head will the crown of victory be adorned?

حیدرآباد :

(اپنا ورنگل)

جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب کی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، جبکہ رائے دہی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے۔ شہر کی فضا سیاسی جوش و جذبے سے معمور ہے اور دفاتر، چائے خانوں اور کاروباری مراکز میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے — ’’جیتے گا کون؟‘‘یہ انتخاب محض سیاسی مقابلہ نہیں رہا بلکہ اب ایک وسیع سماجی اور تجزیاتی مباحثہ بن چکا ہے۔ سرکاری و خانگی اداروں کے عہدیداروں اور ملازمین تک انتخابی بخار پہنچ چکا ہے، جہاں بعض مقامات پر نتائج پر داؤ لگائے جارہے ہیں، جبکہ سیاسی کارکن اور مختلف پیشہ وار طبقے ایک دوسرے کو چیلنج دیتے نظر آرہے ہیں۔

چند حلقوں کا ماننا ہے کہ حکمراں جماعت اپنی جیت کیلئے سرکاری اسکیمات پر بھروسہ کررہی ہے۔ کانگریس اپنے امیدوار نوین یادو کی عوامی مقبولیت پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔ پارٹی نے چیف منسٹر ریونت ریڈی، وزراء اور دیگر قائدین کو مہم میں جھونک دیا ہے۔

خاص طور پر اقلیتی ووٹوں کے حصول کیلئے مجلس کی پشت پناہی کو ایک کلیدی عنصر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔دوسری طرف، اصل اپوزیشن بی آر ایس کے حامی پُراعتماد ہیں کہ آنجہانی ایم ایل اے کی اہلیہ ایم سنیتا کے حق میں ہمدردی کی لہر پائی جاتی ہے۔ پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کی پرجوش مہم نے کیڈر میں توانائی بھر دی ہے، اور پارٹی حلقہ کی نشست برقرار رکھنے کے دعوے کر رہی ہے۔بی جے پی حامیوں کا کہنا ہے کہ سہ رخی مقابلہ ان کے امیدوار کیلئے سازگار ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ عوام کانگریس اور بی آر ایس دونوں سے عاجز آچکے ہیں۔

کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مسلم اور بی سی ووٹ حتمی نتیجہ طے کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار مقابلہ نہایت سخت اور کانٹے کا ہوگا، جبکہ جیت کا فرق بہت کم رہنے کا امکان ہے۔ رائے دہی 11 نومبر کو منعقد ہوگی، مہم 9 نومبر کی شام 5 بجے ختم ہوجائے گی اور نتائج 14 نومبر کو منظر عام پر آئیں گے۔

News Source : Mohd. Abdul Rahman

(Special Correspondent, Jubilee Hills)