Aimim has become a vote splitting party says mohammed ali shabbir
(اپنا ورنگل)
حیدرآباد:
سینئر کانگریس رہنما اور تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) بہار میں جان بوجھ کر مسلم ووٹ تقسیم کر رہی ہے جس سے بالآخر بی جے پی کو فائدہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں ایم آئی ایم کی سرگرمیاں سیکولر جماعتوں کو کمزور کر رہی ہیں۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ ایم آئی ایم اب “ووٹ کٹوا” پارٹی بن چکی ہے۔ ان کے مطابق، سیکولر جماعتوں کو مضبوط کرنے کے بجائے ایم آئی ایم ان کی طاقت گھٹا رہی ہے جس کے نتیجے میں ووٹوں کی تقسیم بی جے پی کو مستحکم کرتی ہے۔
انہوں نے ماضی کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایم آئی ایم کو صرف چار نشستیں حاصل ہوئیں، لیکن اس سے کانگریس کو دو درجن سے زیادہ حلقوں میں نقصان برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بار عوام ایم آئی ایم کی حکمت عملی سمجھ چکے ہیں اور ان کے امیدوار اپنی ضمانتیں بھی نہیں بچا سکیں گے۔
محمد علی شبیر نے مسلم ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر کانگریس امیدواروں کی حمایت کریں تاکہ ووٹوں کی تقسیم سے بچا جا سکے۔ ان کے مطابق، ہر تقسیم شدہ ووٹ فرقہ پرست قوتوں کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ ایم آئی ایم کی مداخلت کانگریس کو کمزور کرنے اور مسلم نمائندگی گھٹانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ جامع سیاست اور اقلیتوں کے حقیقی بااختیار بنانے کے لیے پرعزم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قمرالہدی جیسے امیدوار سیکولر اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں، لہٰذا مسلمانوں کو ان کی کامیابی یقینی بنانی چاہیے اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنا چاہیے۔
تلنگانہ حکومت کے مشیر نے مزید کہا کہ جہاں جہاں ایم آئی ایم الیکشن لڑتی ہے، وہاں بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ ایک واضح طرزِعمل ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ ووٹر اس حقیقت کو سمجھیں۔ صرف سیکولر قوتوں کا اتحاد ہی بی جے پی کی تفرقہ انگیز سیاست کو روک سکتا ہے۔
انہوں نے کانگریس کارکنوں پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح پر انتخابی مہم تیز کریں اور جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں۔ ان کے بقول، یہ لڑائی صرف بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ ان عناصر کے خلاف بھی ہے جو سیکولر اتحاد کو توڑ کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کی مدد کر رہے ہیں۔
News Source : Agency

