جوبلی ہلز ضمنی انتخاب سے قبل جماعتِ اسلامی تلنگانہ کی وزیرِ اعلیٰ سے اچانک ملاقات — سیاسی مفادات یا عوامی مسائل؟

jubilee hills by election jamaat-e-islami telangana as sudden meeting with the chief minister political interests or public issues

ورنگل:

(اپنا ورنگل)
تلنگانہ میں جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب سے چند دن قبل جماعتِ اسلامی تلنگانہ کے وفد کی وزیرِ اعلیٰ سے اچانک ملاقات نے ریاست کی مسلم سیاسی و سماجی حلقوں میں کئی سوالات کی خلق ہو رہی ہے۔

گزشتہ 23 ماہ کے دوران مسلم قیادت، سماجی تنظیموں اور علما نے بارہا وزیرِ اعلیٰ سے ملاقات کی کوشش کی تھی تاکہ مسلمانوں سے متعلق سنگین مسائل — جیسے مختلف اضلاع میں فرقہ وارانہ کشیدگی، اقلیتی بجٹ کے عملی نفاذ کی ناکامی، وقف جائیدادوں کا تحفظ، تعلیمی وظائف اور ترقیاتی اسکیموں کی بحالی، اور سیاسی نمائندگی میں انصاف — پر مؤثر بات چیت ہو سکے۔ تاہم، ان تمام کوششوں کے باوجود کسی ملاقات کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

اب جبکہ جوبلی ہلز کا ضمنی انتخاب قریب ہے، جماعتِ اسلامی تلنگانہ کو اچانک ملاقات کا وقت مل جانا ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


سماجی و سیاسی کارکن محمد عبد القدوس نے اس ملاقات پر شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے چند اہم سوالات اٹھائے ہیں:

1. یہ ملاقات اب کیوں؟ کیا گزشتہ 23 ماہ تک مسلمانوں کے مسائل غیر اہم تھے؟


2. کیا اس ملاقات کا مقصد سیاسی ہے، یعنی جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں مسلم ووٹ پر اثر ڈالنا؟


3. حکومتِ تلنگانہ نے اپنے 2023 کے منشور میں مسلمانوں سے جو وعدے کیے تھے، ان پر اب تک عمل کیوں نہیں ہوا؟



انہوں نے کہا کہ اقلیتی بجٹ میں اعلانات تو ہوئے، مگر عملی اقدامات صفر رہے۔ وظائف اور تعلیمی اسکیمیں تاحال بحال نہیں ہوئیں، وقف ٹریبونل اور وقف پولیسنگ کے اقدامات تعطل کا شکار ہیں، اردو کے تعلیمی و ثقافتی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں، جبکہ سیاسی نمائندگی صرف تصویری بیانات تک محدود ہے۔


عبد القدوس کا کہنا ہے کہ جماعتِ اسلامی تلنگانہ کو چاہیے کہ وہ اس ملاقات کے ایجنڈے، نکات اور نتائج کو عوامی سطح پر تحریری طور پر پیش کرے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ ان کے مطابق، “مسلم برادری اب باشعور اور سیاسی طور پر بالغ ہے۔ وہ نمائشی ملاقاتوں اور انتخابی وقت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ ہمیں شفافیت چاہیے، تصویر نہیں — ہمیں نتیجہ چاہیے، وعدہ نہیں — ہمیں عمل چاہیے، بیانات نہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ تلنگانہ کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ گزشتہ 23 ماہ تک مسلمانوں کے اہم مسائل کیوں نظرانداز کیے گئے، اور اب اچانک انتخابی موسم میں دلچسپی کیوں پیدا ہوئی۔


یاد رہے کہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب کو سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ حلقہ شہر کے بااثر اور باشعور طبقات کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسے میں جماعتِ اسلامی کی ملاقات کو مختلف سیاسی زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے — آیا یہ محض عوامی مفاد میں ہوئی یا کسی مخصوص انتخابی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔




رپورٹ: خصوصی نمائندہ
(محمد عبد القدوس کے بیان پر مبنی)