Parents sold their 10 day old baby girl for 3 lakh-rupees in nalgonda
(اپنا ورنگل)
ضلع نلگنڈہ میں ایک انسانیت سوز واقعہ پیش آیا جس نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ غربت اور مجبوری نے ایک قبائلی جوڑے کو اس حد تک دھکیل دیا کہ انہوں نے اپنی 10 دن کی ننھی سی بیٹی کو محض تین لاکھ روپئے میں فروخت کردیا۔تفصیلات کے مطابق جی بابو اور پاروتی نامی قبائلی جوڑا، جو تروملاگیری (ساگر) منڈل کے ایلاپورم تانڈہ سے تعلق رکھتا ہے، چند سال قبل روزگار کی تلاش میں نلگنڈہ منتقل ہوا تھا۔ اس جوڑے کے پہلے ہی تین بچے تھے۔ پہلی زچگی میں پیدا ہونے والا بیٹا کچھ دن بعد انتقال کرگیا، جب کہ بعد میں دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ دس دن قبل چوتھی زچگی کے دوران بھی لڑکی کی پیدائش ہوئی، جس پر غربت، سماجی دباؤ اور مایوسی کے باعث جوڑے نے اپنی نومولود بیٹی کو پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع گنٹور سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کے ہاتھ تین لاکھ روپئے میں دے دیا۔ذرائع کے مطابق بچی کو پداپور منڈل کے ایک تانڈہ کے قریب منتقل کیا گیا۔ افسوسناک طور پر جب نومولود کو فروخت کیا جارہا تھا تو والدین کی بڑی بیٹیاں زار و قطار روتے ہوئے فریاد کررہی تھیں — "ماں، ہماری بہن کو مت بیچو”۔ یہ منظر ایک ویڈیو کے ذریعے منظرِ عام پر آیا، جس نے ہر دیکھنے والے کا دل دہلا دیا۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کے بابو کے بڑے بھائی سریش نے محکمہ آئی سی ڈی ایس (ICDS) کے عہدیداروں کو اطلاع دی۔ اس اطلاع پر ICDS سپروائزر سرسوتی کی شکایت کے بعد نلگنڈہ ون ٹاؤن پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے بچی کو فروخت کرنے والے والدین، خریدار جوڑے اور دلالوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ون ٹاؤن سرکل انسپکٹر راج شیکھر ریڈی کے مطابق، ابتدائی تفتیش جاری ہے اور پولیس کو کچھ اہم سراغ ملے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد تحقیقات کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں گی۔
News Source : Agency


