کانگریس پارٹی نے ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی اور مسلمانوں کو دیا دھوکہ
کانگریس کی مرکزی قیادت تلنگانہ پر توجہہ دے۔
گالی ونود کمار او ر دیگر کا ایس سی، ایس ٹی، بی سی مسلم فرنٹ پریس کانفرنس سے خطاب.

Congress party betrayed sc-st-bc and muslims  sc-st-bc-muslim front press conference

حیدرآباد :

(اپنا ورنگل)

ایس سی ایس ٹی بی سی مسلم فرنٹ کے ذمہ داران نے جوبلی ہلز اور مجوزہ مجالس مقامی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو سبق سیکھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ انتخابات سے قبل ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی اور اقلیتوں کو ڈیکلریشن کا جھانسہ دیکر مذکورہ طبقات کے ووٹ حاصل کرلئے مگر انتخابات کے بعد وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدگی نہیں دیکھائی گئی ہے۔ پروفیسر نظام کالج محکمہ قانون گالی ونود کمار نے فرنٹ کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وعدہ ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی‘ میناریٹی ڈیکلریشن کا کیاگیاتھا مگر ایک بھی وعدہ دوسالوں میں پورا نہیں ہوا ہے۔ 42فیصد بی سی تحفظات کا اعلان کیاگیا مگر وہ بھی عدالتی کاروائی کی نظر ہوگیا۔گالی ونود کمار نے میڈیا کے ذریعہ کانگریس پارٹی کے قومی صدر ملکار جن کھڑگی سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ تلنگانہ میں چل رہے حالات کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس ہندوستان بھر میں گھوم کر جمہوریت کو بچانے اور فرقہ پرستی کو ختم کرنے کی بات کررہی ہے مگر تلنگانہ میں کانگریس کے ہی دور اقتدار میں جمہوریت کے دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور فرقہ پرستوں کو شر انگیزی کا موقع فراہم کیاجارہا ہے۔ پروفیسر ونود کمار نے انتباہ دیاکہ اگر کانگریس پارٹی کا تلنگانہ میں ایسا ہی رویہ رہا تو مجوزہ مجالس مقامی انتخابات اورجوبلی ہلزبائی الیکشن میں کانگریس پارٹی کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑیگا۔ثناء اللہ خان نے دوسالوں میں تلنگانہ کے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کی ایک طویل فہرست اس موقع پر پیش کی اورکہاکہ بی آر ایس پارٹی نے پچھلے دس سالوں میں مسلمانوں کو نظر انداز کرنے اور ان کے ساتھ ناانصافی کرنے کا جو کام نہیں ہے وہ محض دوسالوں میں ریونت ریڈی حکومت نے کردیا ہے۔انہوں نے دوسال کا عرصہ ہوگیا ایک بھی مسلم وزیر نہ کابینہ میں ہے اورنہ ہی ایوان اسمبلی وقانون ساز کونسل میں کسی مسلمانوں کو کانگریس پارٹی کی جانب سے موقع فراہم کیاگیا ہے۔ انہوں نے اس سے پہلے اسمبلی انتخابات میں جوبلی ہلز سے اظہر الدین‘ شبیر علی کو ان کا ان حلقہ تبدیل کرنے پر مجبور کرکے نئے حلقے سے شبیر کو شکست دلانے میں ریونت ریڈی کو مورد الزام ٹہرایا۔ثناء اللہ خان نے کہاکہ مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کرنا اور انہیں بری حال میں چھوڑدینا ریونت ریڈی حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔سی ایل یادگیری نے بی سی سماج کے ساتھ دھوکہ کا ریونت ریڈی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ بی سی تحفظات کے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ تلنگانہ حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے اقلیت اور بی سی سماج کے لوگ کانگریس پارٹی پر اندھا بھروسہ کیا اور تلنگانہ میں اقتدار سے نوازا مگر اقتدار ملنے کے بعد کانگریس پارٹی نے بی سی اور اقلیتی طبقات دونوں کے ساتھ دھوکہ کیاہے۔ حیات حسین حبیب نے کہاکہ جوبلی ہلزانتخابات میں کانگریس اور بی جے پی کو شکست کے ذریعہ مسلمان کانگریس پارٹی کو سبق سیکھائیں گے۔ انہو ں نے بی آر ایس پارٹی کے دس سالہ دور حکومت کو ہندوستان کی تاریخ کا سنہری دور قراردیتے ہوئے کہاکہ بی آر ایس پارٹی کے سربراہ چندرشیکھر راؤ نے تلنگانہ کی عوام میں ہندو اور مسلمانوں کو اپنی دو آنکھ قراردیا تھا مگر ریونت ریڈی کے زیر قیادت تلنگانہ میں کانگریس حکومت سے نہ ایس سی‘ نہ ایس ٹی او رنہ ہی بی سی اور اقلیتیں خوش ہیں۔ایس ایس تنویر‘ مجاہد ہاشمی‘ فاطمہ سلیم او ردیگر نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بہت جلد جوبلی ہلز ضمنی انتخابات کے متعلق اپنی حکمت عملی منظرعام پر لانے کا اعلان بھی کیاہے۔

News Source : Agency