بی آر ایس حکومت بنتے ہی مسلم قبرستان کیلئے زمین مختص کی جائے گی: کے ٹی آر ۔

Land will alloted for jubilee hills Muslim grave yard after brs Government formation

کے ٹی آر نے بتایا کہ اگر سرکاری اراضی دستیاب نہ ہو تو خانگی اراضی خرید کر مسلمانوں کے لیے قبرستان مختص کیا جائے گا۔

حیدرآباد :

(اپنا ورنگل)
بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی اسمبلی حلقہ جوبلی ہلز میں مسلم قبرستان کی اراضی کے حصول کیلئے بھرپور جدوجہد کرے گی اور اگر حکومت نے فوری اقدام نہیں کیا تو اس پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت خاموش رہی تو آئندہ دو سال میں بی آر ایس حکومت قائم ہوتے ہی پہلے ہفتہ میں قبرستان کیلئے دو تا چار ایکڑ اراضی الاٹ کی جائے گی۔کے ٹی آر نے بتایا کہ اگر سرکاری اراضی دستیاب نہ ہو تو خانگی اراضی خرید کر مسلمانوں کے لیے قبرستان مختص کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے بھی صنعت نگر اور عنبرپیٹ حلقوں میں مسلم قبرستان کیلئے اراضی الاٹ کی گئی جبکہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں کے سی آر نے مسلم و عیسائی قبرستانوں کیلئے 125 ایکڑ زمین مختص کی تھی۔آج تلنگانہ بھون میں ایچ وائی سی کے سلمان خان نے اپنے حامیوں کے ساتھ کے ٹی آر سے ملاقات کر کے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔

اس موقع پر پارٹی کے سینئر قائدین سابق رکن اسمبلی عامر شکیل، ریاستی صدر اقلیتی سیل مجیب الدین، امتیاز اسحاق، مسیح اللہ خان، محمد اعظم علی اور دیگر موجود تھے۔کے ٹی آر نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس مسلم ووٹوں کی ٹھیکیدار نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں نے ہمیشہ اس پر بھروسہ کیا اور ہر بار دھوکہ کھایا۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کیلئے کانگریس ذمہ دار ہے، جو 65 سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود کچھ نہیں کرپائی۔انہوں نے الزام لگایا کہ 2023ء کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے جھوٹے وعدوں کے ذریعے مسلمانوں کو گمراہ کیا اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہیں نظرانداز کردیا۔ جوبلی ہلز میں قبرستان کا مطالبہ برسوں سے زیرالتوا ہے۔ اللکاپور میں ایک اراضی صبح مسلمانوں کیلئے مختص کی گئی تھی لیکن دوپہر میں فوج نے اپنی تحویل میں لے لی۔کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس نے سیاسی فائدے کیلئے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلواڑ کیا۔ انہوں نے عہد کیا کہ بی آر ایس حکومت مسلمانوں کے دیرینہ مسائل حل کرے گی اور قبرستان کی اراضی کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ریاستی کابینہ میں مسلم نمائندگی صفر ہے۔

نہ کسی مسلم کو وزیر بنایا گیا، نہ ایم ایل اے یا ایم ایل سی کی نمائندگی دی گئی۔ محمد علی شبیر کی قربانی کو نظرانداز کیا گیا جبکہ محمد اظہرالدین کو بطور “بلی کا بکرا” پیش کیا گیا۔ریونت ریڈی پر تنقید کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں اس وقت کانگریس اور بی جے پی کی “جوائنٹ وینچر” حکومت چل رہی ہے۔

بی آر ایس وہ واحد پارٹی ہے جس نے وقف ایکٹ پر مؤثر عمل درآمد کیا اور مرکزی وزیر امیت شاہ کے خلاف مقدمہ درج کیا، جسے ریونت ریڈی نے واپس لے لیا۔ایچ وائی سی کے سلمان خان نے کہا کہ وہ کانگریس کا “سیاسی جنازہ” نکالنے کیلئے بی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں، کیونکہ ریونت ریڈی نے منظم سازش کے تحت ان کا پرچہ مسترد کرایا تھا۔

News Source : Agency