جامعہ نظامیہ سے پچھلے 154 سال سے تمام مذاہب کے ماننے والے بھی علمی فیض حاصل کیا,جانشین سجادہ نشین دیوان صاحب درگاہ اجمیر شریف کی جامعہ آمد پر مولانا مفتی خلیل احمد قادری صاحب کا خطاب۔

For the past 154 years, followers of all religions have also received academic benefits from Jamia Nizamia. Speech by Maulana Mufti Khalil Ahmed Qadri on the arrival of the successor of Sajjada Nasheen Diwan Sahib, Dargah Ajmer Sharif, at the Jamia

(اپنا ورنگل)

مفکراسلام زین الفقہاء حضرت مولانا مفتی خلیل احمد قادری صاحب امیر جامعہ نظامیہ نے جامعہ نظامیہ شبلی گنج حیدرآباد میں جانشین سجادہ نشین دیوان صاحب درگاہ اجمیر شریف حضرت مولانا سید شاہ خواجہ نصیر الدین چشتی معینی اجمیری چیرمین آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کی آمد پر استقبالیہ تقریب سے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حافظ شاہ محمد انوار اللہ فاروقی قادری چشتی صابری فضیلت جنگ خان بہادر رح بانی جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم کے عشق ومحبت میں مدینہ منورہ میں قیام کا ارادہ فرمایا تھا مگر پیارے نبی صل اللہ علیہ و سلم کو کچھ اور منظور تھا پیارے نبی نے حضرت شیخ الاسلام کو خواب میں تشریف لاکر حکم دیا کہ اے انوار آپ کی یہاں نہیں دکن میں ضرورت ہے

آپ دکن جاو اور ایک دینی درسگاہ قائم کرو اس حکم پر آپ دکن تشریف لائے اور سن 1292 ہجری میں جامعہ نظامیہ حیدرآباد کی تقوی و توکل کی بنیاد اور پیارے نبی صل اللہ علیہ و سلم کے اشارے پر بنیاد ڈالی جامعہ نظامیہ کے قیام کا مقصد رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم اور اہل بیت اطہار و صحابہ کرام اور بزرگان دین اولیاء اللہ کے مشن کو آگے بڑھانا ہے بڑی بڑی عمارتیں کڑی کرنا اور عملی میدان میں صفر کی طرح رہنا جامعہ یا بانی جامعہ کا مقصد نہیں یہی وجہ ہیکہ اللہ نے اس جامعہ سے اب تک لاکھوں علماء و فاضیلین، حفاظ فارغ ہوے اور محدثین، مفسرین، فقھاء، ادیب وغیرہ پیدا ہوئے اور دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی شمع کو روشن کیا اور یہ سلسلہ جاری ہے صرف دکن کی حد تک جامعہ کے فارغین محدود نہیں بلکہ دنیا کے کونے کونے میں جامعہ کے فارغین اپنے اپنے انداز میں تعلیمی میدان میں اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کا کام کرنے میں مصروف ہیں اور جامعہ نظامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے۔

کہ اس ادارے سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم حضرات بھی علمی فیض حاصل کیا جن میں اس وقت کے آندھراپردیش کے چیف منسٹر بھی شامل ہیں جنھوں نے جامعہ نظامیہ میں اردو اور فارسی سیکھا جامعہ نظامیہ ایک اعتدال پسند ادارے کا نام ہے کسی کا رد کرنے کے لیئے کسی کو گالی گلوج کرکے رد نہیں کیا جاتا بلکہ اچھے اور علمی انداز میں اسکا رد کیا جاتا رہا ہے حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ کا ہی مشن رہا ہے اسی وجہ سے دنیا میں جامعہ نظامیہ کا شہرہ ہے جامعہ نظامیہ صرف اور صرف مسلک حق اہلسنت وجماعت کی ترجمانی کرتا ہے اور عوام الناس کو مسلکی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک جگہ جمع ہونے کی تعلیم دیتا ہے اللہ و رسول اور بزرگان دین اولیاء اللہ کے بتائے ہوئے رستے پر عمل کرنا جامعہ کا مشرب ہے۔

مولانا مفتی خلیل احمد صاحب نے مزید کہا کہ جامعہ نظامیہ پر حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم کی خاص نظرِ کرم ہے جامعہ کے پہلے جلسے تقسیم اسناد کے موقع پر ایک دن قبل پیارے نبی صل اللہ علیہ و سلم خواب میں تشریف لاکر اسناد پر مہرِ نبوت لگار فرمایا کہ صبح قیامت تک جامعہ نظامیہ کے فارغین کی اسناد پر ہماری مہر رہیگی جامعہ نظامیہ اور فارغین جامعہ کی اجمیر شریف اور حضرت خواجہ غریب نواز رح سے اٹوٹ وابستگی ہے بانی جامعہ نے جب اجمیر شریف تشریف لیگئے تو وہا بھی مدرسہ دارالعلوم دینیہ معینیہ کی بنیاد ڈالی تاکہ رشد و ہدایت اور تشنگان علم و عرفان کو فیضیاب کیا جاسکے اس موقع پر درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین دیوان صاحب حضرت مولانا سید خواجہ زین العابدین چشتی کے فرزند و جانشین حضرت مولانا سید خواجہ نصیر الدین چشتی کی جامعہ نظامیہ آمد پر مولانا مفتی خلیل احمد نے بہت خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے خیر مقدم کیا جانشین سجادہ نشین دیوان صاحب درگاہ اجمیر شریف

حضرت مولانا سید خواجہ نصیر الدین چشتی معینی اجمیری چیرمین آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ نظامیہ اور بانی جامعہ وعلمائے جامعہ کی خدمات کو دیکھکر دل باغ باغ ہوگیا سرزمین دکن کا یہ ادارہ پچھلے ایکسو چوپن سال سے خاموش خدمات انجام دینے میں مصروف ہے علماء و شیوخین جامعہ سے ملاقات کرکے ایک روحانی کیفیت اور ایمان میں مزید تازگی پیدا ہوئی مفکراسلام مولانا مفتی خلیل احمد صاحب کی پچھلے برسا برس سے جاری علمی و دینی خدمات اور خاصکر جامعہ کی ترقی کے لئے کیجانے والی خدمات کو بھر پور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سلطان الہند غریب نواز رح کی بارگاہ کے مورثی جانشین و سجادہ نشین اور اولاد۔

News Source : Mohd. Taqi