تلنگانہ کانگریس کی موجودہ پالیسیوں پر شدید تنقید: سماجی کارکن محمد عبدالقدوس کا سخت ردعمل۔

Strong criticism of the current policies of the Telangana Congress: Strong response from social activist Muhammad Abdul Quddus.

ورنگل

(اپنا ورنگل)


سماجی کارکن محمد عبدالقدوس نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے تلنگانہ کانگریس کی موجودہ پالیسیوں پر شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کانگریس وہ جماعت نہیں رہی جو کبھی عوامی جدوجہد، سیکولر اقدار اور نظریاتی سیاست کی علامت ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے ریونت ریڈی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تلنگانہ کانگریس اب بی جے پی، ایم آئی ایم اور ٹی ڈی پی کے زیرِ اثر چلنے والی ایسی جماعت بن چکی ہے جو اے بی وی پی کے نظریاتی پس منظر میں کام کر رہی ہے۔ محمد عبدالقدوس نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کانگریس پارٹی کی جانب سے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے نوین یادو کو امیدوار بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی کے اندر وفادار اور نظریاتی کارکنوں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق ایک ایسے شخص کو ٹکٹ دینا جس کا سیاسی ماضی مشکوک ہے اور جو ایم آئی ایم قیادت کے ساتھ تصاویر میں نمایاں طور پر موجود رہا ہے، یہ نہ صرف پارٹی کے اصولوں کی توہین ہے بلکہ اس سے کانگریس کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے پر کے سی وینوگوپال اور میناکشی نٹراجن کے دستخط اس بات کا ثبوت ہے کہ کانگریس میں کچھ مفاد پرست عناصر اثر و رسوخ حاصل کر چکے ہیں جو پارٹی میں دراڑیں ڈالنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کے مطابق تلنگانہ کانگریس اب بی جے پی اور ایم آئی ایم کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے۔ محمد عبدالقدوس نے افسوس ظاہر کیا کہ راہول گاندھی، ملکارجن کھڑگے، جے رام رمیش اور دیگر سینئر رہنما اس انحراف پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کانگریس پارٹی کے سینئر قائدین اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اس نظریاتی دراندازی اور مفاد پرستی کے خلاف اپنی آواز کو بلند کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج آواز نہیں اٹھائی گئی تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ کانگریس کے اصل نظریے کو بچایا جائے، ورنہ وقت خود ان لوگوں کو سزا دے گا جنہوں نے کانگریس کی روح کا سودا کیا ہے۔

News Source : M.F. Baig Riaz