The universal message of the Messenger of Allah (SAW) is a beacon of light for every era and every human being. Address by speakers at the Seerat-un-Nabi (Saw) program in Zaheerabad

(اپنا ورنگل)
ظہیرآباد :
جماعت اسلامی ہند ساؤتھ کے زیراہتمام بعد نماز مغرب اسلامک سنٹر شانتی نگر ظہیرآباد سیرت النبی ﷺ کا انعقاد عمل میں آیا جہاں محمد ناظم الدین غوری ناظم ضلع سنگا ریڈی مغربی نے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمدِ عربی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر مبعوث فرمایا۔
آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس کسی ایک قوم، علاقے، نسل یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور نجات کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ امتِ محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک منفرد مقام عطا فرمایا ہے کہ وہ بلا تفریقِ مذہب، ذات، پات، رنگ، نسل، زبان اور حسب و نسب، اللہ تعالیٰ کے پیغام اور دینِ حق کو تمام بندگانِ خدا تک پہنچانے کی کوشش کرے۔ جس کی دعوت اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ انبیاء علیہم السلام مختلف ادوار میں اپنی اپنی قوموں کے سامنے پیش کرتے رہے۔
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک انبیائے کرام علیہم السلام نے انسانوں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی، اس دین کی بنیاد اور اساس کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ ہے۔انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ آپ ﷺ پر نبوت کا سلسلہ مکمل اور ختم ہوگیا۔
آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام نے آخری نبی ﷺ کی آمد کی بشارت دی جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خاتم النبیین کا منصب عطا فرمایا۔انہوں نے مزید کہا کہ آپ ﷺ کو جو شریعت عطا کی گئی وہ قیامت تک انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات زمان و مکان کی قید سے آزاد ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والا انسان، خواہ اس کی زبان، نسل، قوم یا ثقافت کچھ بھی ہو، آپ ﷺ کے پیغامِ ہدایت کا مخاطب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت آفاقی اور عالمگیر دعوت ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں رسولِ اکرم ﷺ کو سراجِ منیر یعنی روشن چراغ قرار دیا اور آپ ﷺ کو تمام عالم کے لیے رحمت بناکر بھیجا ایسے حالات میں سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کریں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس کا سب سے بڑا اور دائمی معجزہ قرآنِ مجید ہے۔ یہ وہ عظیم کتاب ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
انہوں نے دوٹوک کہا کہ سیرتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف جلسوں، محفلوں اور تقریروں تک محدود رہنا نہیں بلکہ ہماری زبان میں سچائی، ہمارے معاملات میں دیانت، ہمارے رویے میں نرمی، ہمارے دل میں رحم، ہمارے کردار میں پاکیزگی اور ہمارے معاشرے میں عدل و انصاف نظر آنا چاہیے۔ یہی حقیقی محبتِ رسول ﷺ کا عملی تقاضا ہے۔انہوں نے امتِ مسلمہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی نئی نسل کو سیرتِ طیبہ سے روشناس کرانا ہوگا، انہیں رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ، اخلاقِ حسنہ، عبادات، معاملات اور انسانیت کے ساتھ آپ ﷺ کے حسنِ سلوک سے واقف کرانا ہوگا۔
کیونکہ جس نسل کے سامنے سیرتِ رسول ﷺ کا روشن نمونہ موجود ہو، وہ زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ بہتر کردار، علم اور اخلاق کے ساتھ کرسکتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ پوری انسانیت کے لیے رحمت، قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے عملی نمونہ ہے۔مفتی محمد نذیر صاحب حسامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دینِ حق کو سمجھنے کے لیے سیرتِ طیبۂ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ کے بے شمار گوشے ہیں اور ہر گوشہ ہمارے لیے نہایت اہم اور قابلِ عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کے مقصد، مقام اور عظمت کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کو مبعوث فرما کر پوری انسانیت پر عظیم احسان فرمایا۔ نبی کریم ﷺ کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انسان کو اپنے خالق و مالک سے جوڑنے کا راستہ دکھایا اور اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت، اطاعت اور بندگی کی طرف رہنمائی فرمائی۔
مفتی محمد نذیر حسامی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر تمام انسانیت کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت اور فلاح کا پیغام ہیں۔ یہی امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ رسولِ اکرم ﷺ کے اس عالمگیر پیغامِ ہدایت کو خود اپنی زندگیوں میں اپنائے اور حکمت، محبت اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں تک پہنچائے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کے لیے داعیِ اعظم بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو توحید، عدل، محبت، اخوت اور نیکی کی دعوت دی اور برائیوں سے بچنے کی تعلیم فرمائی۔ آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمیں حکمت، صبر، حسنِ اخلاق اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے۔عرفان احمد نے داعی اعظم ﷺ کے عنوان پر اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اپنانا اور آپ ﷺ کے پیغامِ امن و ہدایت کو دوسروں تک پہنچانا چاہیے۔
پروگرام کا آغاز برادر محمد عمار فاروق کے تذکیر بالقرآن سے ہوا۔ سید عبدالرؤف صاحب امیر مقامی جماعت اسلامی ساؤتھ نے افتتاحی کلمات میں 21 اگست تا 30 سیرت مہم کی کارکردگی کی تفصیلات پیش کرتے تمام مہمانوں و شرکاء کا خیرمقدم کیا جبکہ محمد خواجہ نظام الدین معاون امیر مقامی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور محمد رضوان احمد کے اظہار تشکر پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔ اس موقع پر محمد معین الدین معاون ناظم ضلع، محمد قیصر غوری امیر مقامی نارتھ ارکان کارکنان اور متفقین نے شرکت کی ۔
News Source : Gulam Mustafa

