کوڑنگل میں سڑک کی توسیع کے نام پر قبرستان اور عاشورہ خانہ کو منہدم کرنے پر سخت ردعمل

Strong reaction to demolition of cemetery and Ashura Khana in the name of road expansion in Kodangal

ورنگل میں جمعیتہ علماء و مقامی قائدین نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ورنگل- 26/ ستمبر
(اپنا ورنگل)
کوڑنگل میں حالیہ سانحہ نے نہ صرف مقامی عوام کو بلکہ پوری ریاست کو دکھ پہنچایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعلٰی ریونت ریڈی کے حلقہ اسمبلی کوڑنگل میں سڑک کی توسیع کے نام پر تین قبرستانوں اور ایک عاشورہ خانہ کو منہدم کردیا گیا۔ اس افسوس ناک عمل سے اقلیتی برادری کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ ورنگل میں جمعیتہ علماء نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حرکت ناقابل برداشت ہے اور حکومت کو چاہیے انہدامی کاروائی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے ناخوشگوار واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ورنگل کے صدر محترم مولانا سید ایوب صاحب قاسمی، جنرل سکریٹری مولانا محمد منور حسین قاسمی، سٹی جنرل سکریٹری حافظ و قاری عبدالمقیت، خازن مولانا محمد منظور احمد قاسمی اور دیگر اراکین نے شرکت کی اور اپنے اپنے بیانات میں گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں بی آر ایس کے مقامی رہنما محمد نعیم صاحب نے بھی میڈیا کو اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ قبرستانوں اور مذہبی مقامات کو مسمار کرنا سنگین جرم ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اقلیتی برادریوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوے انصاف فراہم کرے۔ علمائے کرام اور قائدین نے یاد دلایا کہ ماضی میں کانگریس پارٹی کہتی تھی کہ وہ اپنے دور اقتدار میں تمام مذاہب کے جذبات کا خاص خیال رکھے گی لیکن موجودہ دور اقتدار میں آئے دن ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جو اقلیتی طبقہ کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ آخر میں جمعیۃ علماء ورنگل نے تلنگانہ حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ملزمان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اقلیتی طبقہ کے مذہبی اور روحانی مقامات کی بیحرمتی نہ ہو۔

News Source : Mohd. Fazal ur Rahman Wajid