بھوپال کے گیان گنگا اسکول کی دوسری جماعت کی کتاب میں پیغمبرِ اسلام ﷺ سے منسوب تصویر پر اعتراض؛ کانگریس ایم ایل اے عاطف عقیل نے کلکٹر کو لکھا خط، کتاب فوری طور پر نصاب سے ہٹانے کا مطالبہ

Objection to the image of the Prophet Muhammad (PBUH) in the second grade textbook of Gyan Ganga School in Bhopal; Congress MLA Atif Aqeel wrote a letter to the Collector, demanding immediate removal of the book from the syllabus

(اپنا ورنگل)

بھوپال:

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں واقع گیان گنگا اسکول (اکیڈمی)، سی سیکٹر گووند پورہ کی دوسری جماعت میں پڑھائی جانے والی کتاب ’’Knowledge Tree‘‘ میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ سے منسوب مبینہ تصویر شائع کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بھوپال شمال سے رکن اسمبلی عاطف عارف عقیل نے اس پر سخت اعتراض درج کراتے ہوئے ضلع کلکٹر کو باقاعدہ تحریری خط ارسال کیا اور مذکورہ کتاب کو فوری طور پر نصاب سے ہٹانے کی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

رکن اسمبلی عاطف عقیل کے لیٹر ہیڈ پر جاری خط کے مطابق دوسری جماعت میں پڑھائی جانے والی ’’Knowledge Tree‘‘ نامی کتاب کے یونٹ نمبر 4 ’’Culture and Literature (You Love Us)‘‘ کے صفحہ نمبر 3، ’’Sacred Texts‘‘ کے تحت پیغمبر محمد ﷺ سے منسوب ایک تصویر شائع کی گئی ہے۔ خط میں کتاب کے مصنف کا نام نیہا اروڑا اور ایڈیٹر شالو اروڑا درج ہے، جبکہ ناشر کے طور پر Astreca Publication، لکڑی کا پل، حیدرآباد کا ذکر کیا گیا ہے۔

عاطف عقیل نے اپنے خط میں کہا کہ اسلامی مذہبی روایت میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی تصویری نمائندگی کو قبول نہیں کیا جاتا اور کتاب میں شائع مذکورہ تصویر سے ایک مخصوص مذہبی طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے، جس کے باعث مسلم برادری کے لوگوں میں ناراضی پائی جا رہی ہے۔انہوں نے ضلع کلکٹر سے درخواست کی ہے کہ گیان گنگا اسکول کی دوسری جماعت میں پڑھائی جانے والی مذکورہ کتاب کو فوری طور پر کورس سے ہٹانے کے لیے ضروری کارروائی کی جائے۔

اس معاملے پر عاطف عقیل نے تمام مذاہب اور عقائد کے احترام کو پیش نظر رکھتے ہوئے حساس اور مثبت حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی مواد تیار اور منتخب کرتے وقت مختلف مذاہب کے مذہبی عقائد اور حساس روایات کا احترام کیا جانا چاہیے، تاکہ کسی بھی برادری کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوں۔فی الحال سامنے آنے والا اعتراض عاطف عقیل کے تحریری خط اور متعلقہ سوشل میڈیا مواد پر مبنی ہے۔ کتاب میں موجود تصویر کی اصل نوعیت اور ناشر یا اسکول انتظامیہ کا تفصیلی مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملے کی مزید صورت واضح ہو سکے گی۔

News Source : Agency