کم از کم اجرت 32 ہزار ہونی چاہیے، حکومت مزدوروں سے انصاف کرے: ونئے بھاسکر

Minimum wage should be 32 thousand, government should be fair to workers: Vinay Bhaskar

(اپنا ورنگل)

ہنمکنڈہ:

تلنگانہ کے سابق وہپ و بی آر ایس کے سینئر رہنما داسیم ونئے بھاسکر نے وزیراعلٰی ریونت ریڈی کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم اجرت میں اضافے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ نہ تو شفاف ہے، نہ ہی بڑھتی مہنگائی سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی سائنسی بنیاد موجود ہے۔ ونئے بھاسکر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اجرت میں اضافے کے لیے کابینہ سب کمیٹی بنانے اور ملک کے لیے مثالی سائنسی طریقے سے اجرت بڑھانے کا اعلان تو کیا، لیکن عملاً کوئی خلوص نظر نہیں آیا۔

مزدور یونینوں کے مطالبات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ حکومت نے چار زمروں میں اجرت کا اعلان کیا: ان اسکلڈ 16,000 روپے، سیمی اسکلڈ 17,000 روپے، اسکلڈ 18,500 روپے، ہائی اسکلڈ 20,000 روپے۔ ونئے بھاسکر نے کہا کہ ان اسکلڈ کے علاوہ باقی زمروں میں بنیادی تنخواہ + مہنگائی بھتہ ملاکر موجودہ تنخواہ اور نئی اجرت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ جی او 11 کے تحت پہلے ہی کانٹریکٹ لیبر کو 13,098 سے 23,683 روپے تک مل رہے ہیں۔ جی او 4 کے مطابق اسکلڈ ورکر کی اجرت 19,572 تھی جبکہ اب 18,500 کر دی گئی یعنی 1,072 روپے کی کمی۔

ریاست میں آنگن واڑی، آشا، این آر ای جی ایس، این آر ایچ ایم اور سرو شکشا ابھیان کے تحت 3 لاکھ سے زائد اسکیم ورکرز کام کر رہے ہیں۔ حکومت نے واضح نہیں کیا کہ یہ ورکرز کس زمرے میں آئیں گے۔ ان کی موجودہ اجرت سے بھی کم پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ونئے بھاسکر نے یاد دلایا کہ کے سی آر حکومت کے دور میں کم از کم اجرت مشاورتی بورڈ نے ان اسکلڈ ورکر کے لیے 18,009 روپے اور مہنگائی بھتہ فی پوائنٹ 12 روپے کی سفارش کی تھی۔ 25 جون 2021 کو 5 جی اوز بھی جاری ہوئے جن کا کانگریس حکومت نے گزٹ تک جاری نہیں کیا۔

کے سی آر دور میں میونسپل ورکرز کی تنخواہ 14,600 سے بڑھا کر 22,000 کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1948 کے کم از کم اجرت ایکٹ اور ڈاکٹر اکروئے فارمولے کے مطابق سائنسی حساب سے کم از کم اجرت 32,000 روپے ماہانہ بنتی ہے۔ سپریم کورٹ بھی اس کی تائید کر چکی ہے۔ ملک بھر کی مزدور یونینیں 26,000 روپے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ونئے بھاسکر نے کہا کہ کانگریس نے انتخابی منشور میں 24,000 روپے کم از کم اجرت کا وعدہ کیا تھا، مگر ریونت ریڈی اب اپنے وعدے سے مکر گئے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اجرت میں اضافے کے موجودہ فیصلے پر نظرثانی کرے اور بڑھتی ہوئی ضروری اشیاء کی قیمتوں، قانونی تقاضوں اور مزدور یونینوں کی سفارشات کو مدنظر رکھ کر شفاف اور سائنسی بنیادوں پر نئی اجرت کا اعلان کرے۔

News Source : Mohd. Fazal ur Rahman