اردو ادب کی ایک توانا آواز خاموش مقبول شاعر طاہر فراز کا انتقال، ادبی حلقوں میں سوگ کی لہر۔

The death of the silent and popular poet Taher Faraz, a powerful voice of Urdu literature, has caused a wave of mourning in literary circles.

(اپنا ورنگل)

بیدر  :

یوں تو دنیا میں کسی کو نہیں رہنا ہے سداپر ترے جانے سے ویران سا لگتا ہے چمن جناب محمد عبدالصمدمنجووالا صحافی نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کے ممتاز، مقبول اور ہر دل عزیز شاعر طاہر فراز کے انتقال کی خبر نے ادبی دنیا کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے اچانک انتقال سے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ اور چاہنے والے بلکہ پورا اردو ادبی حلقہ ایک قیمتی اور منفرد آواز سے محروم ہو گیا ہے۔

طاہر فراز ایک سادہ دل، شفیق اور نفیس احساس رکھنے والی شخصیت تھے۔ ان کی شاعری سچائی، درد کی لطافت اور جذبوں کی شفافیت کا حسین امتزاج تھی، جو براہِ راست قاری کے دل پر اثر کرتی تھی۔ ان کے اشعار میں زندگی کی تلخیوں کے ساتھ ساتھ انسانیت، محبت اور خلوص کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔

وہ محض ایک بڑے شاعر ہی نہیں بلکہ ایک خوبصورت انسان بھی تھے، جن کی عاجزی، خوش اخلاقی اور انسان دوستی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی کمی اردو ادب میں مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔مرحوم کے انتقال پر ادبی، سماجی اور فکری حلقوں کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان، اہلِ خانہ، احباب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔بلاشبہ اردو ادب آج ایک قیمتی سرمائے سے محروم ہو گیا ہے۔

News Source : M.A. Samad Manju wala